شاعری

رہی دل کی دل میں زباں تک نہ پہنچی

رہی دل کی دل میں زباں تک نہ پہنچی محبت کی دنیا بیاں تک نہ پہنچی بسیرا رہا اس کا صحن چمن میں مگر یہ بہار آشیاں تک نہ پہنچی انہیں خواب میں بھی نہ دھیان آیا مرا یہ روح حقیقت گماں تک نہ پہنچی شب غم مرا دل تھا سولی پہ لیکن تمنا سر شک رواں تک نہ پہنچی بہاروں کا تو ذکر ہی کیا کروں ...

مزید پڑھیے

دلوں کو توڑنے والو خدا کا خوف کرو

دلوں کو توڑنے والو خدا کا خوف کرو گرے ہوؤں کو اٹھا لو خدا کا خوف کرو چمک کر اور بڑھاؤ نہ میری سیہ بختی بڑے گھروں کے اجالو خدا کا خوف کرو نہ جاؤ کار محبت میں چھوڑ کر تنہا ذرا سا ہاتھ بٹا لو خدا کا خوف کرو ہمیں بھی راہ دکھا دو بڑا اندھیرا ہے جہاں میں روشنی والو خدا کا خوف ...

مزید پڑھیے

یاد ہے اب تک مجھے عہد جوانی یاد ہے

یاد ہے اب تک مجھے عہد جوانی یاد ہے دل کے بسنے اور اجڑنے کی کہانی یاد ہے یاد ہے اب تک کسی کی مہربانی یاد ہے عارضوں پر اپنے اشکوں کی روانی یاد ہے بستر حرماں پہ وہ پہلو بدلنا بار بار غم کی راتوں میں وہ قہر آسمانی یاد ہے روٹھنے اور روٹھ کر مننے کے ہر انداز کی مہربانی یاد ہے ...

مزید پڑھیے

خون دل ہوتا رہا خون جگر ہوتا رہا

خون دل ہوتا رہا خون جگر ہوتا رہا یہ تماشا عشق میں شام و سحر ہوتا رہا اس جہان آب و گل میں یوں بسر ہوتی رہی مسکراتے بھی رہے دامن بھی تر ہوتا رہا آرزؤں کو تڑپ کر نیند سی آتی گئی قصۂ بیمار غم یوں مختصر ہوتا رہا ان کی باتوں پر یقیں ہم عمر بھر کرتے رہے انتظار شام وعدہ عمر بھر ہوتا ...

مزید پڑھیے

پھر مری آنکھ تری یاد سے بھر آئی ہے

پھر مری آنکھ تری یاد سے بھر آئی ہے پھر تصور میں وہی جلوۂ زیبائی ہے دشت غربت میں وہی عالم تنہائی ہے سر میں سودا ہے ترا اور ترا سودائی ہے کیا ارادہ ہے مری زیست کا میں کیا جانوں کشتیٔ عمر مری موت سے ٹکرائی ہے الفت ساقیٔ مہوش کے تصور میں شراب آج ساغر میں پری بن کے اتر آئی ہے آئنہ ...

مزید پڑھیے

ہوس کا دام پھیلایا ہوا ہے

ہوس کا دام پھیلایا ہوا ہے دل معصوم گھبرایا ہوا ہے کسی شیشہ پہ بال آیا ہوا ہے دل غم ناک تھرایا ہوا ہے تمنا خلد کی اور مے پرستی یہ واعظ کس کا بہکایا ہوا ہے کہاں لے جاؤں رغبت آشیاں کی اندھیرا ہر طرف چھایا ہوا ہے جہاں ہو کار فرما زر پرستی وہاں ذوق خدا آیا ہوا ہے خدارا اس طرف بھی ...

مزید پڑھیے

یاس کی منزل میں تنہائی تھی اور کچھ بھی نہیں

یاس کی منزل میں تنہائی تھی اور کچھ بھی نہیں جرأت پرواز شرمائی تھی اور کچھ بھی نہیں آج میخانے میں اذن عام تھا ساقی ترے اس لئے دنیا ادھر آئی تھی اور کچھ بھی نہیں آج میری کشتئ طوفاں شکن نے دوستو ڈوب جانے کی قسم کھائی تھی اور کچھ بھی نہیں لوگ جس کو ناگ‌ و ناگن کا فسوں کہنے لگے تم ...

مزید پڑھیے

شعلہ خیز و شعلہ ور اب ہر رہ تدبیر ہے

شعلہ خیز و شعلہ ور اب ہر رہ تدبیر ہے زندگی گویا چتا کی بولتی تصویر ہے دیکھ کر صحن چمن کو یہ گماں ہونے لگا گویا کھینچنے کو نئی سی پھر کوئی تصویر ہے آشیاں کی زندگی سے ہو چلا ہے دل اچاٹ پھر وہی شوق شہادت دل کا دامن گیر ہے آج از راہ کرم بھر دے لبالب ساقیا ذوق مے نوشی مرا پھر موجب ...

مزید پڑھیے

نہ جب تک درد انساں سے کسی کو آگہی ہوگی

نہ جب تک درد انساں سے کسی کو آگہی ہوگی نہ پیدا عشق ہوگا اور نہ دل میں روشنی ہوگی وہ نکلے ہوں گے جب صحن‌ چمن میں بے نقاب ہو کر نظر آخر نظر ہے بے ارادہ اٹھ گئی ہوگی نمازی جا رہے ہیں آج کیوں سوئے صنم خانہ بہار بے خودی شاید وہاں بھی آ گئی ہوگی نہ جانے دیکھیے کب تک رہے مشق ستم مجھ ...

مزید پڑھیے

خواب تھے میرے کچھ سہانے سے

خواب تھے میرے کچھ سہانے سے آپ کو کیا ملا مٹانے سے راہ حق پر جو لوگ چلتے ہیں خوف کھاتے نہیں زمانے سے ہم کو دل کا سکون ملتا ہے فاقہ مستوں کو کچھ کھلانے سے بد دعا مت غریب کی لینا باز رہنا اسے ستانے سے بن کے آتے ہیں کیسے کیسے لوگ اے خدا تیرے کارخانے سے مسکراتے رہو خدا کے لیے پھول ...

مزید پڑھیے
صفحہ 547 سے 4657