کوئی رنج ہے نہ شکایتیں مجھے اپنے ہوش پریدہ سے
کوئی رنج ہے نہ شکایتیں مجھے اپنے ہوش پریدہ سے یہ وہ شمع تھی جو بھڑک اٹھی مری آہ نیم کشیدہ سے مری وحشتوں کی ہے انتہا کہ کسی کا حسن ہے رونما کبھی میرے دامن چاک سے کبھی میری جیب دریدہ سے میں نمود حسن الست ہوں میں چراغ عشق بدست ہوں یہ تجلیات بہار ہیں مرے رنگ و بوئے پریدہ سے تری یاد ...