سکون قلب و شکیب نظر کی بات کرو
سکون قلب و شکیب نظر کی بات کرو گزر گئی ہے شب غم سحر کی بات کرو دلوں کا ذکر ہی کیا ہے ملیں ملیں نہ ملیں نظر ملاؤ نظر سے نظر کی بات کرو شگفتہ ہو نہ سکے گی فضائے ارض و سما کسی کی جلوہ گہ بام و در کی بات کرو حریم ناز کی خلوت میں دسترس ہے کسے نظارہ ہائے سر رہ گزر کی بات کرو بدل نہ ...