شاعری

سکون قلب و شکیب نظر کی بات کرو

سکون قلب و شکیب نظر کی بات کرو گزر گئی ہے شب غم سحر کی بات کرو دلوں کا ذکر ہی کیا ہے ملیں ملیں نہ ملیں نظر ملاؤ نظر سے نظر کی بات کرو شگفتہ ہو نہ سکے گی فضائے ارض و سما کسی کی جلوہ گہ بام و در کی بات کرو حریم ناز کی خلوت میں دسترس ہے کسے نظارہ ہائے‌ سر رہ گزر کی بات کرو بدل نہ ...

مزید پڑھیے

کچھ اور گمرہئ دل کا راز کیا ہوگا

کچھ اور گمرہئ دل کا راز کیا ہوگا اک اجنبی تھا کہیں رہ میں کھو گیا ہوگا وہ جن کی رات تمہارے ہی دم سے روشن تھی جو تم وہاں سے گئے ہوگے کیا ہوا ہوگا اسی خیال میں راتیں اجڑ گئیں اپنی کوئی ہماری بھی حالت کو دیکھتا ہوگا تمہارے دل میں کہاں میری یاد کا پرتو وہ ایک ہلکا سا بادل تھا چھٹ ...

مزید پڑھیے

سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی

سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی اک لحظہ بہے آنسو اک لحظہ ہنسی آئی سیکھے ہیں نئے دل نے انداز شکیبائی اس موسم گل ہی سے بہکے نہیں دیوانے ساتھ ابر بہاراں کے وہ زلف بھی لہرائی ہر درد محبت سے الجھا ہے غم ہستی کیا کیا ہمیں یاد آیا جب یاد تری آئی چرکے ...

مزید پڑھیے

وہ وسعتیں تھیں دل میں جو چاہا بنا لیا

وہ وسعتیں تھیں دل میں جو چاہا بنا لیا صحرا بنا لیا کبھی دریا بنا لیا یوں رشک کی نگاہ سے کس کس کو دیکھتے ہر آرزو کو اپنی تمنا بنا لیا کب تک جہاں سے درد کی دولت سمیٹتے خود اپنے دل کو غم کا خزینہ بنا لیا دنیا کی کوفتوں کو گوارا نہ کر سکے عقبیٰ کو زندگی کا سہارا بنا لیا تھی کائنات ...

مزید پڑھیے

جب اشک تری یاد میں آنکھوں سے ڈھلے ہیں

جب اشک تری یاد میں آنکھوں سے ڈھلے ہیں تاروں کے دیے صورت پروانہ جلے ہیں سو بار بسائی ہے شب وصل کی جنت سو بار غم ہجر کے شعلوں میں جلے ہیں ہر آن امنگوں کے بدلتے رہے تیور ہر آن محبت میں نئی راہ چلے ہیں مہتاب سے چہرے تھے ستاروں سی نگاہیں ہم لوگ انہی چاند ستاروں میں پلے ہیں نوچے ہیں ...

مزید پڑھیے

زمیں پہ رہتے ہوئے کہکشاں سے ملتے ہیں

زمیں پہ رہتے ہوئے کہکشاں سے ملتے ہیں ہمارے رنگ بھی اب آسماں سے ملتے ہیں ہمارے حال کی بوسیدگی پہ مت جاؤ خزانے اب بھی پرانے مکاں سے ملتے ہیں تری قسم کا بھی اب کیسے اعتبار کریں ترے یقیں تو ہمارے گماں سے ملتے ہیں وفا خلوص محبت ہمارا حصہ ہے ہر ایک شخص کو یہ سب کہاں سے ملتے ہیں گلے ...

مزید پڑھیے

زندگی تجھ سے پیار کیا کرتے

زندگی تجھ سے پیار کیا کرتے تجھ پہ ہم جاں نثار کیا کرتے عمر گزری ہے خود سے لڑتے ہوئے غیر کا اعتبار کیا کرتے وہ گھڑی ہم نے جو جیا ہی نہیں زندگی میں شمار کیا کرتے اب محبت میں جی نہیں لگتا اک خطا بار بار کیا کرتے اس نے دیکھا تھا ایسی نظروں سے مر نہ جاتے تو یار کیا کرتے مفلسی ہم نے ...

مزید پڑھیے

کوئی محبوب ستم گر بھی تو ہو سکتا ہے

کوئی محبوب ستم گر بھی تو ہو سکتا ہے پھول کے ہاتھ میں خنجر بھی تو ہو سکتا ہے ایک مدت سے جسے لوگ خدا کہتے ہیں چھو کے دیکھو کہ وہ پتھر بھی تو ہو سکتا ہے مجھ کو آوارگئ عشق کا الزام نہ دو کوئی اس شہر میں بے گھر بھی تو ہو سکتا ہے کیسے ممکن کہ اسے جاں کے برابر سمجھوں وہ مری جان سے بڑھ کر ...

مزید پڑھیے

بہت اداس ہے دل جانے ماجرا کیا ہے

بہت اداس ہے دل جانے ماجرا کیا ہے مرے نصیب میں غم کے سوا دھرا کیا ہے میں جن کے واسطے دنیا ہی چھوڑ آیا تھا وہ پوچھتے ہیں کہ آخر تجھے ہوا کیا ہے نبھا رہا ہوں میں دنیا کے راہ و رسم یہاں وگرنہ جسم کے صحرا میں اب بچا کیا ہے یہاں تو عید کا موسم بھی اب نہیں آتا نہ جانے گردش دوراں کو ہو ...

مزید پڑھیے

کہاں تلک تری یادوں سے تخلیہ کر لیں

کہاں تلک تری یادوں سے تخلیہ کر لیں ہم اپنے آپ کو بھولے ہیں اور کیا کر لیں نہ اشک آنکھ میں آئے نہ آنکھ بہہ نکلے تو کیوں نہ جانب پہلو ہی آج وا کر لیں ہزار رنگ قباؤں پہ ڈال رکھے ہیں عجیب خبط ہے دامن کو پارسا کر لیں بڑے غرور سے کی ہے ضمیر نے توبہ جو تو ملے کبھی تنہا تو پھر خطا کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 487 سے 4657