تیغ جفا کو تیری نہیں امتحاں سے ربط
تیغ جفا کو تیری نہیں امتحاں سے ربط میری سبک سری کو ہے بار گراں سے ربط دنیا کو ہم سے کام نہ دنیا سے ہم کو کام خاطر سے تیری رکھتے ہیں سارے جہاں سے ربط اڑتے ہی گرد جاتی ہے جو سوئے آسماں ہے کچھ نہ کچھ زمین کو بھی آسماں سے ربط اظہار حال کے لئے صورت سوال ہے ہے گفتگو سے کام نہ ہم کو زباں ...