شاعری

میرے رستے میں بھی اشجار اگایا کیجے

میرے رستے میں بھی اشجار اگایا کیجے میں بھی انساں ہوں مرے سر پہ بھی سایا کیجے رات دن راہ میں آنکھیں نہ بچھایا کیجے روشنی میں تو چراغوں کو بجھایا کیجے آپ اتنا تو مرے واسطے کر سکتے ہیں آپ اس شخص کی باتیں ہی سنایا کیجے ہاتھ میں جو ہے بہار اس کو تو آنے دیجے کاغذوں پر تو ہرے پیڑ ...

مزید پڑھیے

کچھ ہجر کے موسم نے ستایا نہیں اتنا

کچھ ہجر کے موسم نے ستایا نہیں اتنا کچھ ہم نے ترا سوگ منایا نہیں اتنا کچھ تیری جدائی کی اذیت بھی کڑی تھی کچھ دل نے بھی غم تیرا منایا نہیں اتنا کیوں سب کی طرح بھیگ گئی ہیں تری پلکیں ہم نے تو تجھے حال سنایا نہیں اتنا کچھ روز سے دل نے تری راہیں نہیں دیکھیں کیا بات ہے تو یاد بھی آیا ...

مزید پڑھیے

میں گفتگو ہوں کہ تحریر کے جہان میں ہوں

میں گفتگو ہوں کہ تحریر کے جہان میں ہوں مجھے سمجھ تو سہی میں تری زبان میں ہوں خود اپنی سانس کہ رکتی ہے اپنے چلنے سے یہ کیا گھٹن ہے میں کس تنگ سے مکان میں ہوں جلا رہا ہے مرے جسم کو مرا ہی کمال میں ایک تیر ہوں ٹوٹی ہوئی کمان میں ہوں گزر رہی ہے مرے سر سے گاہکوں کی نگاہ ذرا سی چیز ہوں ...

مزید پڑھیے

دل عجب گنبد کہ جس میں اک کبوتر بھی نہیں

دل عجب گنبد کہ جس میں اک کبوتر بھی نہیں اتنا ویراں تو مزاروں کا مقدر بھی نہیں ڈوبتی جاتی ہیں مٹی میں بدن کی کشتیاں دیکھنے میں یہ زمیں کوئی سمندر بھی نہیں جتنے ہنگامے تھے سوکھی ٹہنیوں سے جھڑ گئے پیڑ پر پھل بھی نہیں آنگن میں پتھر بھی نہیں خشک ٹہنی پر پرندہ ہے کہ پتا ہے ...

مزید پڑھیے

کوئی پتھر کوئی گہر کیوں ہے

کوئی پتھر کوئی گہر کیوں ہے فرق لوگوں میں اس قدر کیوں ہے تو ملا ہے تو یہ خیال آیا زندگی اتنی مختصر کیوں ہے جب تجھے لوٹ کر نہیں آنا منتظر میری چشم تر کیوں ہے اس کی آنکھیں کہیں صدف تو نہیں اس کا ہر اشک ہی گہر کیوں ہے رات پہلے ہی کیوں نہیں ڈھلتی تیرگی شب کی تا سحر کیوں ہے یہ بھی ...

مزید پڑھیے

چل دیا وہ دیکھ کر پہلو مری تقصیر کا

چل دیا وہ دیکھ کر پہلو مری تقصیر کا دوسرا رخ اس نے دیکھا ہی نہیں تصویر کا باقی سارے خط پہ دھبے آنسوؤں کے رہ گئے ایک ہی جملہ پڑھا میں نے تری تحریر کا تو نے کیسے لفظ ہونٹوں کی کماں میں کس لیے اتنا گہرا گھاؤ تو ہوتا نہیں ہے تیر کا عذر باقی چال میں ہے قید گو باقی نہیں پاؤں عادی ہو ...

مزید پڑھیے

ہے عام ازل ہی سے فیضان محبت کا

ہے عام ازل ہی سے فیضان محبت کا امکان مسلم ہے امکان محبت کا توڑا نہیں جا سکتا پیمان محبت کا نقصان خود اپنا ہے نقصان محبت کا پھر ان کی نگاہوں سے ٹکرائی مری نظریں پھر بڑھنے لگا دل میں طوفان محبت کا ایک ایک تمنا میں لاکھوں ہیں تمنائیں ارمانوں کی دنیا ہے ارمان محبت کا اس واسطے ...

مزید پڑھیے

ضبط کر آہ بار بار نہ کر

ضبط کر آہ بار بار نہ کر غم الفت کو شرمسار نہ کر جس کو خود اپنا اعتبار نہ ہو ایسے انساں کا اعتبار نہ کر اس کے فضل و کرم پہ رکھ نظریں اپنے سجدوں کا اعتبار نہ کر باغ اجڑنے کا غم ہی کیا کم ہے جانے بھی دے غم بہار نہ کر لوگ تجھ کو حقیر سمجھیں گے حد سے زائد بھی انکسار نہ کر وقت سے فائدہ ...

مزید پڑھیے

مشکل ہے پتہ چلنا قصوں سے محبت کا

مشکل ہے پتہ چلنا قصوں سے محبت کا اندازہ مصیبت میں ہوتا ہے مصیبت کا ہے نزع کے عالم میں بیمار محبت کا مشکل ہے سنبھلنا اب بگڑی ہوئی حالت کا افسوس کہ ہم سو کر جاگے بھی تو کب جاگے مرنے پہ کھلا عقدہ جینے کی حقیقت کا وہ آئے ہیں خود اپنے دیوانے کو سمجھانے اے جذبۂ دل دیکھا اقبال محبت ...

مزید پڑھیے

کوہ غم سے کیا غرض فکر بتاں سے کیا غرض

کوہ غم سے کیا غرض فکر بتاں سے کیا غرض اے سبک روئی تجھے بار گراں سے کیا غرض بے نشانیٔ محبت کو نشاں سے کیا غرض اے یقین دل تجھے وہم و گماں سے کیا غرض نالۂ بے صوت خود بننے لگا مہر سکوت بے زبانی کو ہماری اب زباں سے کیا غرض جوہر ذاتی ہیں اس کی تیزیاں اے سنگ دل تیغ ابرو کو تری سنگ فساں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4503 سے 4657