میرے رستے میں بھی اشجار اگایا کیجے
میرے رستے میں بھی اشجار اگایا کیجے میں بھی انساں ہوں مرے سر پہ بھی سایا کیجے رات دن راہ میں آنکھیں نہ بچھایا کیجے روشنی میں تو چراغوں کو بجھایا کیجے آپ اتنا تو مرے واسطے کر سکتے ہیں آپ اس شخص کی باتیں ہی سنایا کیجے ہاتھ میں جو ہے بہار اس کو تو آنے دیجے کاغذوں پر تو ہرے پیڑ ...