شاعری

ویسے تو بہت دھویا گیا گھر کا اندھیرا

ویسے تو بہت دھویا گیا گھر کا اندھیرا نکلا نہیں دیوار کے اندر کا اندھیرا کچھ روشنیٔ طبع ضروری ہے وگرنہ ہاتھوں میں اتر آتا ہے یہ سر کا اندھیرا وہ حکم کہ ہے عقل و عقیدہ پہ مقدم چھٹنے ہی نہیں دیتا مقدر کا اندھیرا کیا کیا نہ ابوالہول تراشے گئے اس سے جیسے یہ اندھیرا بھی ہو پتھر کا ...

مزید پڑھیے

ہانپتی ندی میں دم ٹوٹا ہوا تھا لہر کا

ہانپتی ندی میں دم ٹوٹا ہوا تھا لہر کا واقعہ ہے یہ ستمبر کی کسی سہ پہر کا سرسراہٹ رینگتے لمحے کی سرکنڈوں میں تھی تھا نشہ ساری فضا میں ناگنوں کے زہر کا تھی صدف میں روشنی کی بوند تھرائی ہوئی جسم کے اندر کہیں دھڑکا لگا تھا قہر کا دل میں تھیں ایسے فساد آمادہ دل کی دھڑکنیں ہو بھرا ...

مزید پڑھیے

چلے گا نہیں مجھ پہ فقرا تمہارا

چلے گا نہیں مجھ پہ فقرا تمہارا ہٹا لو کہ خنجر ہے جھوٹا تمہارا منائیں تو اب جان دے کر منائیں قیامت ہے یہ روٹھ جانا تمہارا بڑے سیدھے سادے بڑے بھولے بھالے کوئی دیکھے اس وقت چہرا تمہارا بچا ہے جو ساغر میں کیوں پھینکتے ہو ہمیں دے دو ہم پی لیں جھوٹا تمہارا یہ کیا ہے سبب آج چپ چپ ہو ...

مزید پڑھیے

نہ نکلا منہ سے کچھ نکلی نہ کچھ بھی قلب مضطر کی

نہ نکلا منہ سے کچھ نکلی نہ کچھ بھی قلب مضطر کی کسی کے سامنے میں بن گیا تصویر پتھر کی خدا سے کیوں نہ مانگوں واہ میں بندوں سے کیا مانگوں مجھے مل جائے گی جو چیز ہے میرے مقدر کی تصور چاہئے اے شیخ سب کا ایک ایما ہے صدا ہے پردۂ ناقوس میں اللہ اکبر کی دل راحت طلب کو قبر میں کیا بے قراری ...

مزید پڑھیے

کیا کر رہے ہو ظلم کرو راہ راہ کا

کیا کر رہے ہو ظلم کرو راہ راہ کا کہتے ہیں بے جگر ہے بڑا تیر آہ کا یوں رونگٹے لرزتے ہیں پوچھیں گے روز حشر کیوں ایک دن بھی خوف نہ آیا گناہ کا حالت پہ میری ان کے بھی آنسو نکل پڑے دیکھا گیا نہ یاس میں عالم نگاہ کا کسریٰ کا طاق کعبے کے بت منہ کے بل گرے شہرہ سنا جو اشہد ان لا الہ ...

مزید پڑھیے

شاعر رنگیں فسانہ ہو گیا

شاعر رنگیں فسانہ ہو گیا شعر بلبل کا ترانہ ہو گیا اس قدر نقشے اتارے یار نے یہ جہاں تصویر خانہ ہو گیا وہ چمن کی یاد نے مضطر کیا زہر مجھ کو آب و دانہ ہو گیا آنکھ سے ٹپکی جو آنسو کی لڑی قافلہ غم کا روانہ ہو گیا جان لینے آئے تھے شاعرؔ وہی موت کا تو اک بہانہ ہو گیا

مزید پڑھیے

میں حرف ابتدا ہوں

میں حرف ابتدا ہوں مسلسل اک صدا ہوں سحر کی آرزو میں کہاں تک آ گیا ہوں تخیل ہوں اسی کا میں جس کا نقش پا ہوں زمانہ دیکھتا ہے میں جس کو دیکھتا ہوں مجھے یہ ہوش کب ہے برا ہوں یا بھلا ہوں اسے سلجھاؤں کیسے میں خود الجھا ہوا ہوں

مزید پڑھیے

وہ نظر مہرباں اگر ہوتی

وہ نظر مہرباں اگر ہوتی زندگی اپنی معتبر ہوتی نفرتوں کے طویل صحرا میں ان کی چاہت تو ہم سفر ہوتی اے شب غم مرے مقدر کی تیرے دامن میں اک سحر ہوتی لمحہ لمحہ اذیتیں ہیں جہاں یاد ہی ان کی چارہ گر ہوتی ان سے منسوب ہو گئے ورنہ زندگی کس طرح بسر ہوتی ہم ہی آغازؔ گرم صحرا تھے زلف کیا سایۂ ...

مزید پڑھیے

گھر سے نکلنا جب مری تقدیر ہو گیا

گھر سے نکلنا جب مری تقدیر ہو گیا اک شخص میرے پاؤں کی زنجیر ہو گیا اک حرف میرے نام سے دیوار شہر پر یہ کیا ہوا کہ رات میں تحریر ہو گیا میں اس کو دیکھتا ہی رہا اس میں ڈوب کر وہ تھا کہ میرے سامنے تصویر ہو گیا وہ خواب جس پہ تیرہ شبی کا گمان تھا وہ خواب آفتاب کی تعبیر ہو گیا میں تو ...

مزید پڑھیے

بے حسی انسان کا حاصل نہ ہو

بے حسی انسان کا حاصل نہ ہو دوستی ہو ریت کا ساحل نہ ہو میں تو بس یہ چاہتا ہوں وصل بھی دو دلوں کے درمیاں حائل نہ ہو مجھ کو تنہا چھوڑنے والے بتا کیا کروں جب دل تری محفل نہ ہو کس طرح میری زباں تک آئے گا حرف جو سچائی کا حامل نہ ہو یہ زمانہ چاہتا ہے آج بھی خون دل تحریر میں شامل نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4454 سے 4657