شاعری

میں اپنے واسطے رستہ نیا نکالتا ہوں

میں اپنے واسطے رستہ نیا نکالتا ہوں دلیل شعر میں تھوڑا سا کشف ڈالتا ہوں بہت ستایا ہوا ہوں لئیم دنیا کا سخی ہوں دل کی پرانی خلش نکالتا ہوں زمانہ کیا ہے کبھی من کی موج میں آؤں تو نوک نقش پہ اپنی اسے اچھالتا ہوں یہ میرا کنج‌ مکاں میرا قصر عالی ہے میں اپنا سکۂ رائج یہیں پہ ڈھالتا ...

مزید پڑھیے

یہ جو ٹھہرا ہوا منظر ہے بدلتا ہی نہیں

یہ جو ٹھہرا ہوا منظر ہے بدلتا ہی نہیں واقعہ پردۂ ساعت سے نکلتا ہی نہیں آگ سے تیز کوئی چیز کہاں سے لاؤں موم سے نرم ہے وہ اور پگھلتا ہی نہیں یہ مری خمس حواسی کی تماشا گاہیں تنگ ہیں ان میں مرا شوق بہلتا ہی نہیں پیکر خاک ہیں اور خاک میں ہے ثقل بہت جسم کا وزن طلب ہم سے سنبھلتا ہی ...

مزید پڑھیے

پھر بپا شہر میں افراتفری کر جائے

پھر بپا شہر میں افراتفری کر جائے کوئی یہ سوکھی ہوئی ڈار ہری کر جائے جب بھی اقرار کی کچھ روشنیاں جمع کروں میری تردید مری بے بصری کر جائے معدن شب سے نکالے زر خوشبو آ کر آئے یہ معجزہ باد سحری کر جائے کثرتیں آئیں نظر ذات کی یکتائی میں یہ تماشا کبھی آشفتہ سری کر جائے لمحہ منصف بھی ...

مزید پڑھیے

کہیں سوتا نہ رہ جاؤں صدا دے کر جگاؤ نا

کہیں سوتا نہ رہ جاؤں صدا دے کر جگاؤ نا مجھے ان آٹھ پہروں سے کبھی باہر بلاؤ نا کھلی آنکھوں سے کب تک جستجو کا خواب دیکھوں گا حجاب ہفت پردہ اپنے چہرے سے اٹھاؤ نا ستارے پر ستارہ اوک میں بہتا چلا آئے کسی شب کہکشاں انڈیل کر مجھ کو پلاؤ نا جو چاہو تو زمانے کا زمانہ واژگوں کر دو مگر ...

مزید پڑھیے

دکھائی جائے گی شہر شب میں سحر کی تمثیل چل کے دیکھیں

دکھائی جائے گی شہر شب میں سحر کی تمثیل چل کے دیکھیں سر صلیب ایستادہ ہوگا خدائے انجیل چل کے دیکھیں گلوں نے بند قبا ہے کھولا، ہوا سے بوئے جنوں بھی آئے کریں گے اس موسم وفا میں ہم اپنی تکمیل چل کے دیکھیں غنیم شب کے خلاف اب کے زیاں ہوئی غیب کی گواہی پڑا ہوا خاک پر شکستہ پر ابابیل چل ...

مزید پڑھیے

کبھی خود کو درد شناس کرو کبھی آؤ نا

کبھی خود کو درد شناس کرو کبھی آؤ نا مجھے اتنا تو نہ اداس کرو کبھی آؤ نا مری عمر سرائے مہکے ہے گل ہجراں سے کبھی آؤ آ کر باس کرو کبھی آؤ نا مجھے چاند میں شکل دکھائی دے جو دہائی دے کوئی چارۂ ہوش و حواس کرو کبھی آؤ نا اسی گوشۂ یاد میں بیٹھا ہوں کئی برسوں سے کسی رفت گزشت کا پاس کرو ...

مزید پڑھیے

پنجوں کے بل کھڑے ہوئے شب کی چٹان پر

پنجوں کے بل کھڑے ہوئے شب کی چٹان پر ناخن سے اک خراش لگا آسمان پر برسوں درون سینہ سلگنا ہے پھر ہمیں لگتا ہے قفل‌ حبس ہوا کے مکان پر اک دہاڑ ہے کہ چاروں طرف سے سنائی دے گرداب چشم بن گئیں آنکھیں مچان پر موجود بھی کہیں نہ کہیں التوا میں ہے جو ہے نشان پر وہ نہیں ہے نشان پر اس میں ...

مزید پڑھیے

بات جو کہنے کو تھی سب سے ضروری رہ گئی

بات جو کہنے کو تھی سب سے ضروری رہ گئی کیا کیا جائے غزل یہ بھی ادھوری رہ گئی رزق سے بڑھ کر اسے کچھ اور بھی درکار تھا کل وہ طائر اڑ گیا پنجرے میں چوری رہ گئی تھی بہت شفاف لیکن دن کی اڑتی گرد میں شام تک یہ زندگی رنگت میں بھوری رہ گئی کیوں چلے آئے کھلی آنکھوں کی وحشت کاٹنے اس گلی میں ...

مزید پڑھیے

اسیر حافظہ ہو آج کے جہان میں آؤ

اسیر حافظہ ہو آج کے جہان میں آؤ مکالمے کے لئے عصر کی زبان میں آؤ پئے ثبات تغیر پکارتے ہوئے گزرے چھتیں شکستہ ہیں نکلو نئے مکان میں آؤ زمیں کا وقت سے جھگڑا ہے خود نپٹتے رہیں گے کہا ہے کس نے کہ تم ان کے درمیان میں آؤ یہ آٹھ پہر کی دنیا تمہیں بتاؤں کہ کیا ہے نکل کے جسم سے کچھ دیر ...

مزید پڑھیے

نسلیں جو اندھیرے کے محاذوں پہ لڑی ہیں

نسلیں جو اندھیرے کے محاذوں پہ لڑی ہیں اب دن کے کٹہرے میں خطاوار کھڑی ہیں بے نام سی آواز شگفت آئی کہیں سے کچھ پتیاں شاید شجر شب سے جھڑی ہیں نکلیں تو شکستوں کے اندھیرے ابل آئیں رہنے دو جو کرنیں مری آنکھوں میں گڑی ہیں آ ڈوب! ابھرنا ہے تجھے اگلے نگر میں منزل بھی بلاتی ہے صلیبیں بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4453 سے 4657