شاعری

پھول جیسی ہے کبھی یہ خار کی مانند ہے

پھول جیسی ہے کبھی یہ خار کی مانند ہے زندگی صحرا کبھی گلزار کی مانند ہے تم قلم کی دھار کو کم مت سمجھنا دوستو یہ قلم تو ہے مگر تلوار کی مانند ہے چار دن کے واسطے سب کو ملی ہے دہر میں زندگی بھی ریت کی دیوار کی مانند ہے پاس پیسہ ہے نہیں پھر بھی جہاں میں مست ہوں زندگی اپنی کسی فن کار ...

مزید پڑھیے

غم الفت میں ڈوبے تھے ابھرنا بھی ضروری تھا

غم الفت میں ڈوبے تھے ابھرنا بھی ضروری تھا ہمیں راہ محبت سے گزرنا بھی ضروری تھا حقیقت سامنے آئی بہت حیرت ہوئی مجھ کو ترے چہرے سے پردے کا اترنا بھی ضروری تھا ہمیں منزل کو پانا تھا تبھی تو راہ ہستی میں ہمیں پتھریلے رستوں سے گزرنا بھی ضروری تھا لٹاتے ہی رہے جو کچھ بھی اپنے پاس تھا ...

مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ کچھ بولا جائے

اس سے پہلے کہ کچھ بولا جائے بات کو ذہن میں تولا جائے راز پھر راز نہیں رہتا ہے راز دل سب سے نہ کھولا جائے عیب کتنے ہی دکھیں گے ہم کو اپنے من کو جو ٹٹولا جائے من کی پرواز بہت ہے اونچی دور تک من کا ہنڈولا جائے رشتے بنتے ہیں مدھر تب امبرؔ پیار کا رنگ جو گھولا جائے

مزید پڑھیے

دل کی ہر بات تری مجھ کو بتا دیتی ہے

دل کی ہر بات تری مجھ کو بتا دیتی ہے تیری خاموش نظر مجھ کو صدا دیتی ہے دور رہنا مجھے منظور نہیں ہے تجھ سے زندگی ساتھ ترے مجھ کو مزہ دیتی ہے اپنی کٹیا کے اندھیرے کو مٹاؤں کیسے وہ مرے دیپ کو زلفوں سے ہوا دیتی ہے تیری یہ ہی تو ادا بھاتی ہے جاناں مجھ کو جب نظر سامنے میرے تو جھکا دیتی ...

مزید پڑھیے

جب وہ مجھ سے کلام کرتا ہے

جب وہ مجھ سے کلام کرتا ہے دھڑکنوں میں قیام کرتا ہے لاکھ تجھ سے ہے اختلاف مگر دل ترا احترام کرتا ہے دن کہیں بھی گزار لے یہ دل تیرے کوچے میں شام کرتا ہے ہاتھ تھاما نہ حال ہی پوچھا یوں بھی کوئی سلام کرتا ہے وہ فسوں کار اس قدر ہے شبیؔ بیٹھے بیٹھے غلام کرتا ہے

مزید پڑھیے

جانے کس موڑ پر میں نے دیکھا نہیں

جانے کس موڑ پر میں نے دیکھا نہیں مڑ گیا ہم سفر میں نے دیکھا نہیں تم کو معلوم ہو تو بتانا مجھے رہ گئی میں کدھر میں نے دیکھا نہیں وقت کی سیڑھیاں چڑھتے دیکھا اسے وہ گیا پھر کدھر میں نے دیکھا نہیں لے کے آیا تھا میرے لیے روشنی جب گیا چھوڑ کر میں نے دیکھا نہیں مل ہی جاتی کبھی کوئی ...

مزید پڑھیے

لگے جب صبح کی کشتی کنارے شب

لگے جب صبح کی کشتی کنارے شب کیا کرتی ہے جانے کیا اشارے شب نہیں شکوہ مگر اتنا بتا دو تم کوئی تم بن بھلا کیسے گزارے شب چھڑا کر ہاتھ دنیا سے مری خاطر چلے آؤ جہاں ہو تم پکارے شب ذرا سوچو یہ کس کے واسطے اپنے لیے پھرتی ہے دامن میں ستارے شب اٹھا کے رنج و غم سارے زمانے کے مرے دل پہ نہ ...

مزید پڑھیے

غم ہنسی میں چھپا دیا ہوگا

غم ہنسی میں چھپا دیا ہوگا چشم نم نے بتا دیا ہوگا بھول جانے کی اس کو عادت تھی اس نے مجھ کو بھلا دیا ہوگا ایک خط تھا ثبوت چاہت کا وہ بھی اس نے جلا دیا ہوگا رات چپکے سے لے اڑی تھی ہوا راز دل کا بتا دیا ہوگا ہجر کے مارے دل کو بھی اس نے جانے کیسے سلا دیا ہوگا پھر بلایا ہے آج ناصح ...

مزید پڑھیے

تیرے پہلو میں جی رہی تھی کبھی

تیرے پہلو میں جی رہی تھی کبھی زندگی میری زندگی تھی کبھی بارشوں پر مری نہ جاؤ تم آگ اندر کہیں لگی تھی کبھی یاد کر کے میں ہنس رہی ہوں آج میں بھی تیرے لیے دکھی تھی کبھی وہ بھی دن تھے کہ میں یہی دنیا تیری آنکھوں سے دیکھتی تھی کبھی یاد ہوگا ابھی تلک تجھ کو میں بھی تیری ہی زندگی تھی ...

مزید پڑھیے

سوال کیسے کروں میں اس سے جواب ہے جو مری دعا کا

سوال کیسے کروں میں اس سے جواب ہے جو مری دعا کا کرے گا کیسے وہ بے وفائی مجھے یقیں ہے مری وفا کا نہ اس سے ملنے کی ہے تمنا نہ اس کو پانے کی آرزو ہے دیا محبت کا جل رہا ہے جو جی میں آئے کرے ہوا کا جو بادلوں پر میں چل رہی ہوں تو آسمانوں کو چھو رہی ہوں کہ ساتھ میرے ہی چل رہا ہے وہ ہاتھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4177 سے 4657