شاعری

یوں تو کیا کیا نظر نہیں آتا

یوں تو کیا کیا نظر نہیں آتا کوئی تم سا نظر نہیں آتا ڈھونڈتی ہیں جسے مری آنکھیں وہ تماشا نظر نہیں آتا ہو چلی ختم انتظار میں عمر کوئی آتا نظر نہیں آتا جھولیاں سب کی بھرتی جاتی ہیں دینے والا نظر نہیں آتا زیر سایہ ہوں اس کے اے امجدؔ جس کا سایہ نظر نہیں آتا

مزید پڑھیے

کاندھوں سے زندگی کو اترنے نہیں دیا

کاندھوں سے زندگی کو اترنے نہیں دیا اس موت نے کبھی مجھے مرنے نہیں دیا پوچھا تھا آج میرے تبسم نے اک سوال کوئی جواب دیدۂ تر نے نہیں دیا تجھ تک میں اپنے آپ سے ہو کر گزر گیا رستہ جو تیری راہ گزرنے نہیں دیا کتنا عجیب میرا بکھرنا ہے دوستو میں نے کبھی جو خود کو بکھرنے نہیں دیا ہے ...

مزید پڑھیے

وہ اپنے بند قبا کھولتی تو کیا لگتی

وہ اپنے بند قبا کھولتی تو کیا لگتی خدا کے واسطے کوئی کہے خدا لگتی یقین تھی تو یقیں میں سما گئی کیسے گمان تھی تو گماں سے بھی ماورا لگتی اگر بکھرتی تو سورج کبھی نہیں اگتا ترا خیال کہ وہ زلف بس گھٹا لگتی ترے مریض کو دنیا میں کچھ نہیں لگتا دوا لگے نہ رقیبوں کی بد دعا لگتی ہوئی ہے ...

مزید پڑھیے

روداد جاں کہیں جو ذرا دم ملے ہمیں

روداد جاں کہیں جو ذرا دم ملے ہمیں اس دل کے راستے میں کئی خم ملے ہمیں لبیک پہلے ہم نے کہا تھا رسول‌ حسن ہو کارزار عشق تو پرچم ملے ہمیں آئے اک ایسا زخم جو بھرنا نہ ہو کبھی یعنی ہر ایک زخم کا مرہم ملے ہمیں دن میں جہاں سراب ملے تھے ہمیں وہاں آئی جو رات قطرۂ شبنم ملے ہمیں تم جیسے ...

مزید پڑھیے

ہر ایک شام کا منظر دھواں اگلنے لگا

ہر ایک شام کا منظر دھواں اگلنے لگا وہ دیکھو دور کہیں آسماں پگھلنے لگا تو کیا ہوا جو میسر کوئی لباس نہیں پہن کے دھوپ میں اپنے بدن پہ چلنے لگا میں پچھلی رات تو بے چین ہو گیا اتنا کہ اس کے بعد یہ دل خود بہ خود بہلنے لگا عجیب خواب تھے شیشے کی کرچیوں کی طرح جب ان کو دیکھا تو آنکھوں سے ...

مزید پڑھیے

چھپ جاتا ہے پھر سورج جس وقت نکلتا ہے

چھپ جاتا ہے پھر سورج جس وقت نکلتا ہے کوئی ان آنکھوں میں ساری رات ٹہلتا ہے چمپئی صبحیں پیلی دوپہریں سرمئی شامیں دن ڈھلنے سے پہلے کتنے رنگ بدلتا ہے دن میں دھوپیں بن کر جانے کون سلگتا تھا رات میں شبنم بن کر جانے کون پگھلتا ہے خاموشی کے ناخن سے چھل جایا کرتے ہیں کوئی پھر ان زخموں ...

مزید پڑھیے

شہر میں سارے چراغوں کی ضیا خاموش ہے

شہر میں سارے چراغوں کی ضیا خاموش ہے تیرگی ہر سمت پھیلا کر ہوا خاموش ہے صبح کو پھر شور کے ہمراہ چلنا ہے اسے رات میں یوں دل دھڑکنے کی صدا خاموش ہے کیسا سناٹا تھا جس میں لفظ کن کہنے کے بعد گنبد افلاک میں اب تک خدا خاموش ہے کچھ بتاتا ہی نہیں گزری ہے کیا پردیس میں اپنے گھر کو لوٹتا ...

مزید پڑھیے

بے بسی خاک اڑانے سے بھی کٹ سکتی تھی

بے بسی خاک اڑانے سے بھی کٹ سکتی تھی نیند تھی نیند تو لمحوں میں پلٹ سکتی تھی میں اکیلی ہی سہے جاتی تھی افلاس کا دکھ ویسے تکلیف تو ہم دونوں میں بٹ سکتی تھی تو جو کمرے سے نکل آیا تو یہ پھیل گئی روشنی تیرے اشارے پہ سمٹ سکتی تھی آپ غصے میں تھے میں روک نہ پائی ورنہ آپ کی شرٹ مرے ہاتھ ...

مزید پڑھیے

گھر میں دراڑ ڈالتے رشتوں کی خیر ہو

گھر میں دراڑ ڈالتے رشتوں کی خیر ہو اس آستیں میں آ بسے سانپوں کی خیر ہو وہ ٹوٹنے لگیں تو سہولت مجھے بھی ہے شب میں قرار بخشتے تاروں کی خیر ہو یہ لوگ ہر قدم پہ گرانے لگے مجھے لیکن سنبھالتی تری بانہوں کی خیر ہو تو جو نہیں تو پھول تو ہیں آس پاس بھی اس حبس میں کھلے ہوئے غنچوں کی خیر ...

مزید پڑھیے

درون دل جو چراغ جلتے رہے مسلسل

درون دل جو چراغ جلتے رہے مسلسل ہیں ان سے آنکھوں میں نور کے سلسلے مسلسل کہیں پہ مرتے ہیں بھوک سے کچھ یتیم بچے کہیں پہ کاسے ہیں سائلوں کے بھرے مسلسل مری اداسی پہ اس طرح تو اداس مت ہو کہ زخم رہتے نہیں ہیں اکثر ہرے مسلسل وہ خواب آنکھوں میں بھر سکے یا انہیں گنوا دے وہ اپنے ڈر پہ تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4132 سے 4657