آج کس خواب کی تعبیر نظر آئی ہے
آج کس خواب کی تعبیر نظر آئی ہے اک چھنکتی ہوئی زنجیر نظر آئی ہے میں نے جتنے بھی سوالوں میں اسے دیکھا ہے زندگی درد کی تصویر نظر آئی ہے خود بھی مٹ جاؤں یہ دنیا بھی مٹاتا جاؤں بس یہی صورت تعمیر نظر آئی ہے رات رو رو کے گزاری ہے چراغوں کی طرح تب کہیں حرف میں تاثیر نظر آئی ہے بارش ہجر ...