اس کا انجام بھلا ہو کہ برا ہو کچھ ہو
اس کا انجام بھلا ہو کہ برا ہو کچھ ہو اب رعایا ہمیں رہنا نہیں شاہو کچھ ہو زخم کا ایک سا یہ رنگ نہیں بھاتا ہے اب تو یہ ٹھیک ہو یا اور ہرا ہو کچھ ہو بند یادوں کے حوالات میں کب تک رہوں میں یا میں ہو جاؤں بری یا تو سزا ہو کچھ ہو جسم کہتا ہے کہ اب جاں سے گزر ہی جاؤ دل یہ کہتا ہے کہ یہ ...