شاعری

اس کا انجام بھلا ہو کہ برا ہو کچھ ہو

اس کا انجام بھلا ہو کہ برا ہو کچھ ہو اب رعایا ہمیں رہنا نہیں شاہو کچھ ہو زخم کا ایک سا یہ رنگ نہیں بھاتا ہے اب تو یہ ٹھیک ہو یا اور ہرا ہو کچھ ہو بند یادوں کے حوالات میں کب تک رہوں میں یا میں ہو جاؤں بری یا تو سزا ہو کچھ ہو جسم کہتا ہے کہ اب جاں سے گزر ہی جاؤ دل یہ کہتا ہے کہ یہ ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں خواب رکھ دئے تعبیر چھین لی

آنکھوں میں خواب رکھ دئے تعبیر چھین لی اس نے خطاب بخش کے جاگیر چھین لی غم یہ نہیں کہ بخت نے برباد کر دیا غم ہے تو یہ کہ خواہش تعمیر چھین لی دستار مصلحت تو یوں بھی سر پہ بوجھ تھی اچھا کیا کہ تم نے یہ توقیر چھین لی یہ کس کی بد دعا کی ہے تاثیر یا خدا جس نے مری دعاؤں سے تاثیر چھین ...

مزید پڑھیے

کچھ درجہ اور گرمئ بازار ہو بلند

کچھ درجہ اور گرمئ بازار ہو بلند دل بیچئے کہ ذوق خریدار ہو بلند باب قبول بند ہے دست طلب پر اب رب چاہتا ہے پائے طلب گار ہو بلند جھک جائے گا سبو بھی کوئی جام تو اٹھائے دانہ ہے منتظر کوئی منقار ہو بلند دیکھی تھی جس نے پیاس وہ پانی تو بہہ چکا امکاں نہیں کہ پرچم انکار ہو بلند ناخون ...

مزید پڑھیے

سپیدی رنگ جہاں میں نہیں ملاتا ہوں

سپیدی رنگ جہاں میں نہیں ملاتا ہوں حقیقتوں کو گماں میں نہیں ملاتا ہوں سرشک غم رگ جاں میں نہیں ملاتا ہوں میں زہر آب رواں میں نہیں ملاتا ہوں جو کہہ دیا کہ ترا ہوں تو صرف تیرا ہوں میں جھوٹ اپنے بیاں میں نہیں ملاتا ہوں تمام شہر تری ہاں میں ہاں ملاتا ہے اکیلا میں تری ہاں میں نہیں ...

مزید پڑھیے

خواب کیا ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں

خواب کیا ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں اک نشہ ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں اس نے کیا کیا ستم نہ توڑے ہیں دل مرا ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں ٹوٹتا جا رہا ہے اک اک خواب سلسلہ ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں رشتے ناطے تمام ٹوٹ گئے سر پھرا ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں پو پھٹی انگ انگ ٹوٹتا ہے اور نشہ ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں لہریں آ آ ...

مزید پڑھیے

خودی کے زعم میں ایسا وہ مبتلا ہوا ہے

خودی کے زعم میں ایسا وہ مبتلا ہوا ہے جو آدمی بھی نہیں تھا وہ اب خدا ہوا ہے وہ کہہ رہا تھا بجھائے گا پیاس صحرا کی مرا اک ابر کے ٹکڑے سے رابطہ ہوا ہے تمہارا طرز بیاں خوب ہے مگر صاحب یہ قصہ میں نے ذرا مختلف سنا ہوا ہے یہ مٹی پاؤں مرے چھوڑتی نہیں ورنہ فلک کا راستہ بھی سامنے پڑا ہوا ...

مزید پڑھیے

میں نے اسی سے ہاتھ ملایا تھا اور بس

میں نے اسی سے ہاتھ ملایا تھا اور بس وہ شخص جو ازل سے پرایا تھا اور بس لمبا سفر تھا آبلہ پائی تھی دھوپ تھی میں تھا تمہاری یاد کا سایہ تھا اور بس حد نگاہ چار سو کرنوں کا رقص تھا پہلو میں چاند جھیل کے آیا تھا اور بس اک بھیڑیا تھا دوستی کی کھال میں چھپا اس نے مرے وجود کو کھایا تھا ...

مزید پڑھیے

ملے گا اس کا مجھے کیا اٹھا کے لایا ہوں

ملے گا اس کا مجھے کیا اٹھا کے لایا ہوں پرانے وقت کا سکہ اٹھا کے لایا ہوں تمہاری تشنگی دیکھی نہیں گئی مجھ سے میں اپنی اوک میں دریا اٹھا کے لایا ہوں شب سیاہ میں کچھ تو مجھے سہولت ہو کسی کی یاد کا تارا اٹھا کے لایا ہوں جو ہو سکے تو ذرا مختلف بنا اب کے میں قصر ذات کا ملبہ اٹھا کے ...

مزید پڑھیے

زاد رہ لے کے یادوں کی تنویر میں

زاد رہ لے کے یادوں کی تنویر میں گمشدہ راستوں کا ہوں راہگیر میں اس سے کہہ دو کہ لے جائے آنکھیں مری اس کی دل میں سنبھالوں گا تصویر میں گاؤں اجڑا ہوا پھر سے آباد ہو اک حویلی کروں ایسی تعمیر میں کوئی بتلائے بھی کیا خطا ہے مری کس لیے سہہ رہا ہوں یوں تعزیر میں مجھ کو دی ہے امانت میاں ...

مزید پڑھیے

تو بھی حیران و پریشاں ہے تھکا ہوں میں بھی

تو بھی حیران و پریشاں ہے تھکا ہوں میں بھی تیرے ہم راہ بہت دور چلا ہوں میں بھی تو بھی اس بت کی زیارت کا شرف حاصل کر اس کے قدموں پہ کئی بار جھکا ہوں میں بھی تو بھی مصروف کھلونوں میں ہے یادوں سے پرے جی کے بہلانے کو کچھ ڈھونڈ رہا ہوں میں بھی تیرا ہی چرچا نہیں شہر میں بازاروں میں کتنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3994 سے 4657