شاعری

جن لغزشوں کے دہر میں جھنڈے بلند ہیں

جن لغزشوں کے دہر میں جھنڈے بلند ہیں ایوان زندگی کے وہی نقشبند ہیں بے سائیگی نے ہم کو بنایا ہے تیز گام ہم لوگ سوکھے پیڑوں کے احسان مند ہیں لفظوں کے قحط ہی کی نوازش کہیں اسے تابوت ذہن میں جو خیالات بند ہیں تو اپنا مال پہلے حریصوں میں بانٹ دے کیا ہے ہمارا ہم تو قناعت پسند ہیں اس ...

مزید پڑھیے

حادثے زیر و بم پیچ و خم راہ دیکھ

حادثے زیر و بم پیچ و خم راہ دیکھ گاہ چل گاہ رک گاہ مڑ گاہ دیکھ طول فہرست حاجات کچھ رحم کر میری مشکل سمجھ میری تنخواہ دیکھ بزدلوں کی طرح چھپ کے حملہ نہ کر اپنے دشمن کو بھی کر کے آگاہ دیکھ جس کو آنا نہ ہو وہ نہیں آئے گا ایک دو دن نہیں چار چھ ماہ دیکھ اپنی اوقات کا جائزہ لے ذرا اس ...

مزید پڑھیے

غم تو تھا پھر بھی بے شمار نہ تھا

غم تو تھا پھر بھی بے شمار نہ تھا نیزہ سینے کے آر پار نہ تھا میرے گرنے پہ کیوں ہے استعجاب میں تو ویسے بھی شہسوار نہ تھا وہ جو پھرتا تھا لے کے شیر کی کھال اس کا مارا ہوا شکار نہ تھا کیسے رشتے ہیں اس کی موت کے بعد خون خود اس کا سوگوار نہ تھا ہم بھی سیراب ہو چکے ہوتے مطلع بخت ابر بار ...

مزید پڑھیے

عالم میں اگر عشق کا بازار نہ ہوتا

عالم میں اگر عشق کا بازار نہ ہوتا کوئی کسی بندہ کا خریدار نہ ہوتا ہستی کی خرابی نظر آتی جو عدم میں اس خواب سے ہرگز کوئی بیدار نہ ہوتا کہتا ہے تجھے خاک نہ دوں غیر اذیت یہ دل میں اگر تھی تو مرا یار نہ ہوتا معلوم کسے تھی یہ تری خانہ خرابی میں جانتا ایسا تو گرفتار نہ ہوتا عالم کو ...

مزید پڑھیے

اٹھ چکا دل مرا زمانے سے

اٹھ چکا دل مرا زمانے سے اڑ گیا مرغ آشیانے سے دیکھ کر دل کو مڑ گئی مژگاں تیر خالی پڑا نشانے سے چشم کو نقش پا کروں کیونکر دور ہو خاک آستانے سے ہم نے پایا تو یہ صنم پایا اس خدائی کے کارخانے سے تیری زنجیر زلف سے نکلے یہ توقع نہ تھی دوانے سے اے فغاںؔ درد دل سنوں کب تک اڑ گئی نیند اس ...

مزید پڑھیے

ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کا

ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کا وہ صبح کو ہے یار مرا شام کسی کا اس ہستئ موہوم میں ہرگز نہ کھلی چشم معلوم کسی کو نہیں انجام کسی کا اتنا کوئی کہہ دے کہ مرا یار کہاں ہے باللہ میں لینے کا نہیں نام کسی کا ہونے دے مرا چاک گریباں مرے ناصح نکلے مرے ہاتھوں سے بھلا کام کسی کا ناحق کو ...

مزید پڑھیے

کسی خطا سے ہمیں انحراف تھوڑی ہے

کسی خطا سے ہمیں انحراف تھوڑی ہے ہمارا خود سے کوئی اختلاف تھوڑی ہے بصارتوں کے علم دار ہیں یہاں کچھ لوگ ہر اک نظر پہ اندھیرا غلاف تھوڑی ہے کبھی تو ہم بھی تمہارا سراغ پا لیں گے تمہارا شہر کوئی کوہ قاف تھوڑی ہے یہ آئینہ تمہیں تم سا دکھا نہیں سکتا اگرچہ صاف ہے اتنا بھی صاف تھوڑی ...

مزید پڑھیے

جو حضرت شیخ فرمائیں محبت

جو حضرت شیخ فرمائیں محبت سبھی کو خوب سمجھائیں محبت ضروری تو نہیں ہم زندگی میں محبت کا ثمر پائیں محبت مجھے گھیرا ہوا ہے نفرتوں نے نہ دائیں ہے نہ ہے بائیں محبت ہمارا مشورہ ہے ہر کسی کو کہ نفرت بیچ کر لائیں محبت مجھے ہاتھوں کو ان کے چومنا ہے وہ خوش ہیں کہ جو جو پائیں محبت نہیں ...

مزید پڑھیے

میں کہہ رہا ہوں سر عام برملا بابا

میں کہہ رہا ہوں سر عام برملا بابا گمان ہے بھرے میلے میں کھو گیا بابا کڑی ہے دھوپ تمازت سے پاؤں جلتے ہیں جو سائبان سروں پر تھا کیا ہوا بابا ذرا سی بات پہ آنکھیں برسنے لگتی ہیں کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤں گا حوصلہ بابا تمہارے بعد تو لمحے نہیں گزرتے ہیں ابھی تو عمر کا باقی ہے مرحلہ ...

مزید پڑھیے

ایک نیا واقعہ عشق میں کیا ہو گیا

ایک نیا واقعہ عشق میں کیا ہو گیا دل میں کہیں پھر کوئی زخم ہرا ہو گیا بزم طرب بھی سجی محفل غم بھی سجی کون ملا تھا مجھے کون جدا ہو گیا اپنی خوشی سے مجھے تیری خوشی تھی عزیز تو بھی مگر جانے کیوں مجھ سے خفا ہو گیا میں تو نہیں مانگتا اس کے سوا کچھ صلہ تیری نظر ہو گئی میرا بھلا ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3935 سے 4657