شاعری

کم نہ تھی صحرا سے کچھ بھی خانہ ویرانی مری

کم نہ تھی صحرا سے کچھ بھی خانہ ویرانی مری میں نکل آیا کہاں اے وائے نادانی مری کیا بناؤں میں کسی کو رہبر ملک عدم اے خضر یہ سر زمیں ہے جانی پہچانی مری جان و دل پر جتنے صدمے ہیں اسی کے دم سے ہیں زندگی ہے فی الحقیقت دشمن جانی مری ابتدائے عشق گیسو میں نہ تھیں یہ الجھنیں بڑھتے بڑھتے ...

مزید پڑھیے

شہر سے ایک طرف دور بہت

شہر سے ایک طرف دور بہت آج رویا دل مہجور بہت دور ہے صبح شب غم اے دل ہے ستاروں میں ابھی نور بہت کس کو منظور تھا رسوا ہونا دل کے ہاتھوں ہوئے مجبور بہت موت ایام جوانی میں بھی نظر آتی تھی مگر دور بہت منحصر وادیٔ سینا پہ نہیں جذب موسیٰ ہو اگر طور بہت ایک ہی وار کے قابل نکلا یوں تو ...

مزید پڑھیے

کسی کی یاد کو ہم زیست کا حاصل سمجھتے ہیں

کسی کی یاد کو ہم زیست کا حاصل سمجھتے ہیں اسی کو راحت جاں اور سکون دل سمجھتے ہیں سہارا ہے کہاں یا رب ترے کشتی شکستوں کا نکل آتی ہے موج آخر جسے ساحل سمجھتے ہیں دل غم دیدہ روتا ہے تری صحرا نوردی پر مگر اے قیس ہم لیلیٰ کو بھی محمل سمجھتے ہیں یہ ہے دور حقائق سحر‌ و افسوں ہو گئے ...

مزید پڑھیے

وہ آئی شام غم وقف بلا ہونے کا وقت آیا

وہ آئی شام غم وقف بلا ہونے کا وقت آیا تڑپنے لوٹنے کا دم فنا ہونے کا وقت آیا انہیں اپنی جفاؤں پر پشیمانی ہوئی آخر شریک ماتم‌ اہل وفا ہونے کا وقت آیا اداسی ہر سحر کہتی ہے مجھ سے بزم انجم کی اٹھ اے غم دیدہ اٹھ محو بکا ہونے کا وقت آیا ترا ملنا کسے ملتا ہے ممنون مقدر ہوں مگر افسوس ...

مزید پڑھیے

دست خرد سے پردہ کشائی نہ ہو سکی

دست خرد سے پردہ کشائی نہ ہو سکی حسن ازل کی جلوہ نمائی نہ ہو سکی رنگ بہار دے نہ سکے خارزار کو دست جنوں میں آبلہ سائی نہ ہو سکی اے دل تجھے اجازت فریاد ہے مگر رسوائی ہے اگر شنوائی نہ ہو سکی مندر بھی صاف ہم نے کئے مسجدیں بھی پاک مشکل یہ ہے کہ دل کی صفائی نہ ہو سکی فکر معاش و عشق بتاں ...

مزید پڑھیے

ہو خاک تسکیں کہ موت کے بعد اک نئی زندگی ملے گی

ہو خاک تسکیں کہ موت کے بعد اک نئی زندگی ملے گی ابھی سے گویا یہ فرض کر لوں کہ پھر مصیبت وہی ملے گی میں عقل کی راہ پر نہ چلتا اگر مجھے اس کا علم ہوتا کہ صبح ہر آگہی سے پیوستہ شام نا آگہی ملے گی ریاض عالم میں تجھ کو اے دل جو آرزوئے شگفتگی ہے کلی کو جیسے پس شگفتن ملی ہے پژمردگی ملے ...

مزید پڑھیے

کیا سنائیں کسی کو حال اپنا

کیا سنائیں کسی کو حال اپنا اپنے دل میں رہے ملال اپنا شرمسار جواب ہو نہ سکا بسکہ خوددار تھا سوال اپنا کس نے دیکھا نہیں ہے بعد عروج سایۂ چرخ میں زوال اپنا حسرت دید لے چلے ہم تو آپ دیکھا کریں جمال اپنا پیچ در پیچ گیسوئے مشکیں جا کے الجھا کہاں خیال اپنا دل اسیر بلائے زلف ...

مزید پڑھیے

ہوتے ہیں خوش کسی کی ستم رانیوں سے ہم

ہوتے ہیں خوش کسی کی ستم رانیوں سے ہم وقف بلا ہیں اپنی ہی نادانیوں سے ہم کس منہ سے جا کے شکوۂ جور و جفا کریں مرتے ہیں اور ان کی پشیمانیوں سے ہم میراث دشت و کوہ میں فرہاد و قیس کی الفت کو پوچھتے ہیں بیابانیوں سے ہم گھر بیٹھے سیر ہوتی ہے ارض و سما کی روز محو سفر ہیں طبع کی جولانیوں ...

مزید پڑھیے

ہم جو آہ و فغاں نہیں کرتے

ہم جو آہ و فغاں نہیں کرتے آپ کا امتحاں نہیں کرتے جان و دل دے کے عاشقاں غیور ناز برداریاں نہیں کرتے روز نا‌ مہربانیاں ہم پر یوں تو اے مہرباں نہیں کرتے جنس نایاب ہے دل بیتاب پھر بھی اس کو گراں نہیں کرتے عقل کو کیوں بتائیں عشق کا راز غیر کو رازداں نہیں کرتے زندگانی ہے آن پر ...

مزید پڑھیے

گھبرائیے کیوں زندگی بے کیف اگر ہے

گھبرائیے کیوں زندگی بے کیف اگر ہے آخر شب تاریک کا انجام سحر ہے وہ شام کی صورت ہے نہ وہ رنگ سحر ہے کس کوکب منحوس کا یا رب یہ اثر ہے افسانۂ غم سینۂ بلبل میں ہے فریاد اوراق گل تر میں بعنوان دگر ہے بے درد ہے انساں تو ہیں سب اس کے ہنر عیب ہے دل میں اگر درد تو ہر عیب ہنر ہے ثابت ہے بہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 389 سے 4657