کم نہ تھی صحرا سے کچھ بھی خانہ ویرانی مری
کم نہ تھی صحرا سے کچھ بھی خانہ ویرانی مری میں نکل آیا کہاں اے وائے نادانی مری کیا بناؤں میں کسی کو رہبر ملک عدم اے خضر یہ سر زمیں ہے جانی پہچانی مری جان و دل پر جتنے صدمے ہیں اسی کے دم سے ہیں زندگی ہے فی الحقیقت دشمن جانی مری ابتدائے عشق گیسو میں نہ تھیں یہ الجھنیں بڑھتے بڑھتے ...