اوج مقام دوست پہ اپنا گزر کہاں
اوج مقام دوست پہ اپنا گزر کہاں شایان سدرہ طائر بے بال و پر کہاں تو ہے خیال میں تو ہے آرائش خیال تو ہی نہ ہو نظر میں تو ذوق نظر کہاں دیکھو جسے وہ مست مئے کبر و ناز ہے دنیا بہت خراب ہے جائیں مگر کہاں ہے ابتدائے شام سے ظلمات کا سفر ہوتی ہے دیکھیے شب غم کی سحر کہاں تقدیر میں ہے ...