لپٹی ہوئی پھرتی ہے نسیم ان کی قبا سے
لپٹی ہوئی پھرتی ہے نسیم ان کی قبا سے گل کھلتے ہیں ہر گام پہ دامن کی ہوا سے دل ایسا دیا کیوں کہ رہا کشتۂ جاناں تم سے نہیں یہ شکوہ بھی کرنا ہے خدا سے محرم ہیں ہمیں گرمئ گفتار سے ان کی جو ہونٹ جو آنکھیں ہیں گراں بار حیا سے آہستہ کرو چاک گلو اپنا گریباں گونجے نہ چمن غنچوں کے ہنسنے کی ...