دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا ہے مطالعہ مطلع انوار کا بلبل و پروانہ کرنا دل کے تئیں کام ہے تجھ چہرۂ گل نار کا صبح تیرا درس پایا تھا صنم شوق دل محتاج ہے تکرار کا ماہ کے سینے اپر اے شمع رو داغ ہے تجھ حسن کی جھلکار کا دل کوں دیتا ہے ہمارے پیچ و تاب پیچ تیرے طرۂ طرار کا جو سنیا تیرے ...