شاعری

دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا

دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا ہے مطالعہ مطلع انوار کا بلبل و پروانہ کرنا دل کے تئیں کام ہے تجھ چہرۂ گل نار کا صبح تیرا درس پایا تھا صنم شوق دل محتاج ہے تکرار کا ماہ کے سینے اپر اے شمع رو داغ ہے تجھ حسن کی جھلکار کا دل کوں دیتا ہے ہمارے پیچ و تاب پیچ تیرے طرۂ طرار کا جو سنیا تیرے ...

مزید پڑھیے

عاشق کے مکھ پہ نین کے پانی کو دیکھ توں

عاشق کے مکھ پہ نین کے پانی کو دیکھ توں اس آرسی میں راز نہانی کوں دیکھ توں سن بے قرار دل کی اول آہ شعلہ خیز تب اس حرف میں دل کے معانی کوں دیکھ توں خوبی سوں تجھ حضور و شمع دم زنی میں ہے اس بے حیا کی چرب زبانی کوں دیکھ توں دریا پہ جا کے موج رواں پر نظر نہ کر انجھواں کی میرے آ کے روانی ...

مزید پڑھیے

دل طلب گار ناز مہوش ہے

دل طلب گار ناز مہوش ہے لطف اس کا اگرچہ دل کش ہے مجھ سوں کیوں کر ملے گا حیراں ہوں شوخ ہے بے وفا ہے سرکش ہے کیا تری زلف کیا ترے ابرو ہر طرف سوں مجھے کشاکش ہے تجھ بن اے داغ بخش سینہ و دل چمن لالہ دشت آتش ہے اے ولیؔ تجربے سوں پایا ہوں شعلۂ آہ شوق بے غش ہے

مزید پڑھیے

شیشہ اس کا عجیب ہے خود ہی

شیشہ اس کا عجیب ہے خود ہی وہ ہمارا رقیب ہے خود ہی جان کر ہم نہیں لگاتے دل دل سے ہر بت قریب ہے خود ہی ہم کو حاجت نہیں نقیبوں کی شعر اپنا نقیب ہے خود ہی کوئی ہم کو صلیب کیا دے گا فن ہمارا صلیب ہے خود ہی شاعری کوئی خود نہیں منحوس شعرگو بد نصیب ہے خود ہی ملک کو مال وقف مت جانو قوم ...

مزید پڑھیے

سرخ دامن میں شفق کے کوئی تارا تو نہیں

سرخ دامن میں شفق کے کوئی تارا تو نہیں ہم کو مستقبل زریں نے پکارا تو نہیں دست و پا شل ہیں کنارے سے لگا بیٹھا ہوں لیکن اس شورش طوفان سے ہارا تو نہیں اس غم دوست نے کیا کچھ نہ ستم ڈھائے مگر غم دوراں کی طرح جان سے مارا تو نہیں دکھ بھرے گیتوں سے معمور ہے کیوں بربط جاں اس میں کچھ گرسنہ ...

مزید پڑھیے

دیوانے دیوانے ٹھہرے کھیل گئے انگاروں سے

دیوانے دیوانے ٹھہرے کھیل گئے انگاروں سے آبلہ پائی اب کوئی پوچھے ان ذہنی بیماروں سے بات تو جب ہے شعلے نکلیں بربط دل کے تاروں سے شور نہیں نغمے پیدا ہوں تیغوں کی جھنکاروں سے کس نے بسایا تھا اور ان کو کس نے یوں برباد کیا اپنے لہو کی بو آتی ہے ان اجڑے بازاروں سے کیسے گلے ملتے ہیں ...

مزید پڑھیے

اس طرح سے کشتی بھی کوئی پار لگے ہے

اس طرح سے کشتی بھی کوئی پار لگے ہے کاغذ کا بنا ہاتھ میں پتوار لگے ہے آزاد لگے ہے نہ گرفتار لگے ہے دیوانے کو در آہنی دیوار لگے ہے اک لاش ہے لیکن بڑی جاں دار لگے ہے شعلہ سی کوئی چیز سر دار لگے ہے پہچان لو اس کو وہی قاتل ہے ہمارا جس ہاتھ میں ٹوٹی ہوئی تلوار لگے ہے خاموش گراں بار ...

مزید پڑھیے

زہراب پینے والے امر ہو کے رہ گئے

زہراب پینے والے امر ہو کے رہ گئے نیساں کے چند قطرے گہر ہو کے رہ گئے اہل جنوں وہ کیا ہوئے جن کے بغیر ہم اہل خرد کے دست نگر ہو کے رہ گئے صحرا گئے تو شہر میں اک شور مچ گیا جب لوٹ آئے شہر بدر ہو کے رہ گئے امید کے حبابوں پہ اگتے رہے محل جھونکا سا ایک آیا کھنڈر ہو کے رہ گئے راہوں پہ ...

مزید پڑھیے

فن کار کے کام آئی نہ کچھ دیدہ وری بھی

فن کار کے کام آئی نہ کچھ دیدہ وری بھی کرنا پڑی شہزادوں کو دریوزہ گری بھی اک سلسلۂ دار و رسن پھیلا ہوا ہے منجملہ خطاؤں کے ہے صاحب نظری بھی جن ہاتھوں نے پھاڑے نہ کبھی جیب و گریباں ان ہاتھوں سے ہو سکتی نہیں بخیہ گری بھی ان سے تو بہر طور ہر اک راہزن اچھا جو راہزنی کرتے ہیں اور ...

مزید پڑھیے

برق سر شاخسار دیکھیے کب تک رہے

برق سر شاخسار دیکھیے کب تک رہے ہم کو یقین بہار دیکھیے کب تک رہے دامن گلچیں میں پھول بلبل شیدا ملول روح چمن سوگوار دیکھیے کب تک رہے کتنے نئے قافلے منزلوں سے جا ملے بخت میں اپنے غبار دیکھیے کب تک رہے دیکھیے کب راہ پر ٹھیک سے اٹھیں قدم رات کی مے کا خمار دیکھیے کب تک رہے محنت بے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 277 سے 4657