وہ جو ویران پھرا کرتا ہے (ردیف .. ا)
وہ جو ویران پھرا کرتا ہے اس کے سر میں کوئی صحرا ہوگا تجھ سے دل تیرے پرستاروں کا ٹوٹتے ٹوٹتے ٹوٹا ہوگا جھک کے جو آپ سے ملتا ہوگا اس کا قد آپ سے اونچا ہوگا وہ جو مرنے پہ تلا ہے اخترؔ اس نے جی کر بھی تو دیکھا ہوگا
وہ جو ویران پھرا کرتا ہے اس کے سر میں کوئی صحرا ہوگا تجھ سے دل تیرے پرستاروں کا ٹوٹتے ٹوٹتے ٹوٹا ہوگا جھک کے جو آپ سے ملتا ہوگا اس کا قد آپ سے اونچا ہوگا وہ جو مرنے پہ تلا ہے اخترؔ اس نے جی کر بھی تو دیکھا ہوگا
بجھا بھی جائے کوئی آ کے آندھیوں کی طرح کہ جل رہا ہوں کئی یگ سے میں دیوں کی طرح وہ دوستوں کی طرح ہے نہ دشمنوں کی طرح میں جس کو دیکھ کے حیراں ہوں آئینوں کی طرح میں اس کو دیکھ تو سکتا ہوں چھو نہیں سکتا وہ میرے پاس بھی ہوتا ہے فاصلوں کی طرح وہ آ بھی جائے تو اس کو کہاں بٹھاؤں گا میں ...
آپ سے جھک کے جو ملتا ہوگا اس کا قد آپ سے اونچا ہوگا نکتہ چینوں پہ جو ہنستا ہوگا اس کو اپنے پہ بھروسا ہوگا وہ جو ویران پھرا کرتا ہے اس کے سر میں کوئی صحرا ہوگا تم نہ سمجھو گے مری بات مگر سوچنے والا سمجھتا ہوگا وہ جو مرنے پہ تلا ہے اخترؔ اس نے جی کر بھی تو دیکھا ہوگا
زہر کے گھونٹ پی رہے ہیں ہم تیری نظروں میں جی رہے ہیں ہم خوب ہے سوزن مژہ بھی تری دل کے زخموں کو سی رہے ہیں ہم گھر تو گھر سر دئے ہیں غربت میں دشت میں بھی سخی رہے ہیں ہم شوخ ہوں میکدے ہوں محفلیں ہوں ہر جگہ متقی رہے ہیں ہم تیرے کوچے کی گفتگو ہے فضول تیرے تو دل میں بھی رہے ہیں ہم پیش ...
کنوئیں جو پانی کی بن پیاس چاہ رکھتے ہیں مگر نہنگ بھی دریا کی تھاہ رکھتے ہیں شہادت اپنی گواہی پہ اب بھی ہے شاہد شہید وہ ہیں جو حق کو گواہ رکھتے ہیں یہ جان لیجئے پہچان دونوں کی ہے یہی جو تاج راجا تو کشکول شاہ رکھتے ہیں وہ خاک دھول چٹائیں گے اپنے دشمن کو جو دل نہ قلب امیر سپاہ ...
زندگی اتنی بے مزہ کیوں ہے درد و غم سے یہ آشنا کیوں ہے اس زمانے کے ساتھ ساتھ ہوں میں پھر مخالف مرے ہوا کیوں ہے چارہ گر بھی نہ کر سکے تشخیص عشق کا دل کو عارضہ کیوں ہے شہر میں گھر تو اور بھی تھے مگر اک ہمارا ہی گھر جلا کیوں ہے جب وہ شہ رگ کے ہے قریب تو پھر میری نظروں سے وہ چھپا کیوں ...
چشم تر ہے سحاب ہے کیا ہے اشک گوہر ہے آب ہے کیا ہے مرنا جینا جناب ہے کیا ہے ہر نفس انقلاب ہے کیا ہے زہر پھیلا فضا میں نفرت کا یہ سیاست کا باب ہے کیا ہے جام دنیا کو منہ لگا کر دیکھ زہر ہے یا شراب ہے کیا ہے صنف نازک یہ تبصرہ کیجیے خار ہے یا گلاب ہے کیا ہے ہم سے عالم کی پوچھ اصلیت یہ ...
گرد ہے زر ہے سیم ہے ذرہ شکل میں فرق میم ہے ذرہ یوں تو ریزہ ہے جز ہے شمع ہے کل میں لیکن جسیم ہے ذرہ مہر کی روشنی میں روزن سے دیکھو کتنا عظیم ہے ذرہ کہیں یہ شمس ہے کہیں یہ قمر جس جگہ ہے عظیم ہے ذرہ منقسم ہونے سے ہے جو معذور یہ وہ در یتیم ہے ذرہ پوچھئے حریت پسندوں سے صبح نو کی نسیم ...
تری نظر کا تیر جب جگر کے پار ہو گیا غزل پرست بن گیا غزل سے پیار ہو گیا ابھی ابھی تھی دوستی ابھی فضا بدل گئی کسی نے تان لی کماں کوئی شکار ہو گیا بگاڑنا سنوارنا ہے وقت کے مزاج پر جو ٹھوکروں میں تھا وہ اب گلے کا ہار ہو گیا
بس ادب کی اسی دستار سے پہچانا جاؤں اے غزل میں ترے معیار سے پہچانا جاؤں دولت نام و نسب مجھ کو بھی حاصل ہے مگر چاہتا ہوں کہ میں کردار سے پہچانا جاؤں میری قیمت بھی کوئی آ کے لگائے اک روز اور میں گرمئ بازار سے پہچانا جاؤں مجھ سے طوفان الجھنے کی جسارت نہ کریں میں اگر عزم کی پتوار سے ...