شاعری

خود سے جدا ہوئے تو کہیں کے نہیں رہے

خود سے جدا ہوئے تو کہیں کے نہیں رہے یوں در بدر ہوئے کہ زمیں کے نہیں رہے رشتے رفاقتوں کے رقابت میں ڈھل گئے دیوار و در بھی اپنے مکیں کے نہیں رہے ہجرت زدہ لباس میں پھرتے ہیں در بدر رہنا تھا جس نگر میں وہیں کے نہیں رہے یہ کوزہ گر یہ چاک یہ مٹی یہ آگ سب زعم ہنر میں دیکھ کہیں کے نہیں ...

مزید پڑھیے

بس اک ذرا خیال ہمیں دوستی کا ہے

بس اک ذرا خیال ہمیں دوستی کا ہے ورنہ بہت ملال تری بے رخی کا ہے تو بھی ہے زندگی میں کہیں ہے مجھے یقین یا یہ بھی احتمال مری سادگی کا ہے ہے آج جسم و جاں پہ تری یاد کی تھکن اک خوف میرے دل کو کسی ان کہی کا ہے واقف ہوں تیرے درد سے لیکن مرے حبیب اب تو یہ مسئلہ بھی مری زندگی کا ہے لب ہیں ...

مزید پڑھیے

سفر میں خاک ہوئے کارواں بناتے ہوئے

سفر میں خاک ہوئے کارواں بناتے ہوئے زمین جلنے لگی آسماں بناتے ہوئے کوئی بھی حرف دعا رائیگاں نہیں جاتا میں اس یقین پہ پہنچی گماں بناتے ہوئے تحفظ در و دیوار کار مشکل ہے جھلس گیا ہے بدن سائباں بناتے ہوئے عجیب لوگ تھے نفرت میں پائمال ہوئے محبتوں کی زمیں بے نشاں بناتے ہوئے لہو ...

مزید پڑھیے

مرے سخن کو انوکھے کمال دیتا ہے

مرے سخن کو انوکھے کمال دیتا ہے ترا خیال مرا دل اجال دیتا ہے میں تجھ کو سوچ کے لکھوں تو یہ قلم میرا مرے ہنر کو نئے خد و خال دیتا ہے زمانہ وقت کی صورت ہے مہرباں مجھ پر ہر ایک زخم پئے اندمال دیتا ہے بساط زیست پہ ہر آن پھینک کر پانسہ کوئی تو وقت کے مہرے کو چال دیتا ہے ہیں جس کے نور ...

مزید پڑھیے

زباں نے جو بھی کہا عرض حال تھوڑی ہے

زباں نے جو بھی کہا عرض حال تھوڑی ہے تمہارے بن ہمیں جینا محال تھوڑی ہے جو اک جہاں کو تحیر میں مبتلا کر دے تمہارے جھوٹ میں اتنا کمال تھوڑی ہے نہ جانے کون سی سازش رچائے رہتے ہو مرا عروج تمہارا زوال تھوڑی ہے ترے سوال کے بدلے دیا جواب تجھے مرے جواب میں کوئی سوال تھوڑی ہے نہ کوئی ...

مزید پڑھیے

کوئی خواب ہے نہ خیال ہے یہ عجیب صورت حال ہے

کوئی خواب ہے نہ خیال ہے یہ عجیب صورت حال ہے وہی وحشت مہ و سال ہے یہ عجیب صورت حال ہے کبھی سوچتی ہوں کہ میں اگر تجھے بے نقاب کروں مگر ذرا دوستی کا خیال ہے یہ عجیب صورت حال ہے جو دل و نظر سے تو دور ہے کوئی مسئلہ تو ضرور ہے کہاں دل کے شیشے میں بال ہے یہ عجیب صورت حال ہے کوئی شیشہ گر ...

مزید پڑھیے

جہاں بھی ظلم و تکبر مثال ہوتا ہے

جہاں بھی ظلم و تکبر مثال ہوتا ہے عروج آدم خاکی زوال ہوتا ہے کسی کا دل جو دکھائے کسی کو تہمت دے بدیر جلد برا اس کا حال ہوتا ہے ہو گھاؤ خنجر و شمشیر کا تو بھر جائے زباں کا زخم کہیں اندمال ہوتا ہے ترے مزاج کے موسم سے کیا شکایت ہو ذرا سی دیر میں اکثر بحال ہوتا ہے ہر ایک یاد لپٹتی ہے ...

مزید پڑھیے

کتنی تعبیروں کے منہ اترے پڑے ہیں

کتنی تعبیروں کے منہ اترے پڑے ہیں خواب اب تک ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں راہ میں جو میل کے پتھر گڑے ہیں رہنماؤں کی طرح ششدر کھڑے ہیں کوئی اپنے آپ تک پہنچے تو کیسے آگہی کے کوس بھی کتنے کڑے ہیں زندگی ہم تجھ سے بھی لڑ کر جئیں گے ہم جو خود اپنے ہی سائے سے لڑے ہیں دوستو سر پر بھی آ جاتا ہے ...

مزید پڑھیے

دل ہی سہی سمجھانے والا

دل ہی سہی سمجھانے والا کوئی تو ہے غم کھانے والا دل کے کیا کیا طور تھے لیکن پھول تھا اک مرجھانے والا ہجر کی شب ہے اور مرا دل شام ہی سے گھبرانے والا ڈوب چلے تارے بھی اب تو کب آئے گا آنے والا دل کی لگی دل والا جانے کیا سمجھے سمجھانے والا روئیے لاکھ ذکاؔ اب دل کو کب آیا ہے جانے ...

مزید پڑھیے

خاموشی خود اپنی صدا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے

خاموشی خود اپنی صدا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے سناٹا ہی گونج رہا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے میرا ماضی مجھ سے بچھڑ کر کیا جانے کس حال میں ہے میری طرح وہ بھی تنہا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے صحرا صحرا کب تک میں ڈھونڈوں الفت کا اک عالم عالم عالم اک صحرا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے اہل طوفاں سوچ رہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 175 سے 4657