خانہ برباد ہوئے بے در و دیوار رہے
خانہ برباد ہوئے بے در و دیوار رہے پھر بھی ہم ان کی اطاعت میں گرفتار رہے ٹھوکریں کھا کے بھی شائستہ مزاجی نہ گئی فاقہ مستی میں بھی ہم صاحب دستار رہے اپنی صورت سے ہراساں ہے ہر اک شخص یہاں کون اس شہر میں اب آئنہ بردار رہے آتے جاتے ہوئے موسم کو دعا دیتے رہو کم سے کم شاخ تمنا تو ثمر ...