یہ پیمانہ شراب تیز سے بھرنے نہیں دیتی

یہ پیمانہ شراب تیز سے بھرنے نہیں دیتی
کوئی شے زندگی میں ہے وہی مرنے نہیں دیتی


عجب کچھ مطمئن رکھتی ہے ہم کو بیکلی دل کی
ہوائے ہجر کی یورش سے بھی ڈرنے نہیں دیتی


ہوائے برشگال آخر خوش آتی ہے ہمیں لیکن
جو ہم نے کام کرنا ہے وہی کرنے نہیں دیتی


بھڑکتی ہے جنوں کی آگ اگر کوہ و بیاباں میں
کوئی تہمت ہوائے شہر پہ دھرنے نہیں دیتی


لیے جاتی ہے نخل آرزو تک زندگی خالدؔ
مگر دامن عطائے نخل سے بھرنے نہیں دیتی