ورائے لطف کوئی ابتلا نکلنا تھا
ورائے لطف کوئی ابتلا نکلنا تھا
یہ سلسلہ بھی بہت دور جا نکلنا تھا
ابھی قبول نہ تھیں یہ عنایتیں ہم کو
ابھی دلوں سے غم مدعا نکلنا تھا
سوائے خستگی کچھ پیش کاسۂ زر خواہ
ہمارے کیسۂ خالی سے کیا نکلنا تھا
سفر تو ایک ستارہ غمیں تھا ورنہ ہمیں
کسی سواد مسرت میں جا نکلنا تھا
عجیب منزل بے چارگی تھی منزل جاں
یہیں سے جادۂ بیم و رجا نکلنا تھا
جبیں پہ نقش خدائی ابھرتے جاتے تھے
دلوں سے یوں تو نہ خوف خدا نکلنا تھا