کب سر دوش ہوا خاک فقط میری ہے
کب سر دوش ہوا خاک فقط میری ہے
اب تو یہ منزل غم ناک فقط میری ہے
آسمانوں سے ادھر کون سنبھالے کوئی نقش
یہ زمیں کہتی ہے پوشاک فقط میری ہے
بیٹھتا جاتا ہے آئنۂ ہستی پہ غبار
اس خرابے میں یہی خاک فقط میری ہے
ڈوبتے اور ابھرتے ہیں ستارے شب بھر
اور یہ صورت تہ افلاک فقط میری ہے
بخت کوزہ کا فسانہ کوئی آغاز کرو
اب جو مٹی ہے سر چاک فقط میری ہے