ملکی سیاست ، حکمران اور عوام

دین اور سیاست دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ ورنہ بقول اقبال جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔

 موجودہ صورتحال میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد  لائی گئی ہے۔ اب ووٹنگ کا انتظارہے۔ ہماری سیاست میں ایسی بے یقینی اور سنسنی شاید ہی دیکھنے میں آئی ہو۔ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے سپورٹرز اور خیر خواہوں کے درمیان گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔ایک ن لیگ کو سپورٹ کرتا ہے تو دوسرا پاکستان پیپلز پارٹی کو، ایک مولانا فضل الرحمان کو ، ایک ایم کیو ایم کو یہاں پر ایک ایک تو کہنا بھی درست نہیں یہ تو کھچڑی بن گئی ہے۔ 
دل چسپ صورت حال ہے کہ صبح کا "دوست" ، شام کا "دشمن" بن رہا ہے اور صبح کا "دشمن" رات گئے "دوستی" کا دم بھررہا ہے۔ جب اسکول کے زمانے میں "مینڈک تولنے کا محاورہ" سنتے تھے، تب سمجھ نہیں آتا تھا۔ لیکن آج سمجھ آئی ہے کہ مینڈک تولنا کیوں مشکل ہے ؟ پلڑے میں ایک مینڈک کو بٹھاؤ دوسرا نکل جاتا ہے ۔دوسرا بٹھاؤ تیسرا نکل جاتا ہے۔ مینڈکوں کو اکٹھا کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ پاکستانی سیاست بھی آج کل اسی اصول پر عمل پیرا ہے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں "ون پلس" یا "ون مائنس" یک نکتہ ایجنڈا نظر آرہا ہے۔ کوئی وزن نہیں،کوئی اصول نہیں اور کوئی قانون کی پاسداری نہیں۔ میرے مخاطَب سیاست دان نہیں بلکہ عوام ہیں۔اے میرے دوستو، آپ کیوں لڑ رہے ہو؟ آپ کی آپس میں دوستیاں ہیں، رشتہ داریوں میں جڑے ہوئے ہو۔ آپ ان سیاسی لوگوں کے لیے ایک دوسرے کو برا کہتے ہو۔ آپ نے جو کرنا تھا 2018 ء کے جنرل الیکشن میں کردیا تھا۔ اب تو آپ سے پوچھا بھی نہیں جارہا آپ اپنی رائے پیش کر رہے ہیں ۔سوشل میڈیا پر "اکیسویں اسکیل کے دانشور" موجود ہیں جو ہر وقت اپنے اپنے نظریات پیش کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ سیاسی صاحبان اپنا مستقبل دیکھ رہے ہیں جدھر جس کو فائدہ نظر آرہا ادھر بھاگا جارہا ہے۔ میں کسی بھی پارٹی کا سپورٹر نہیں ہوں مجھے عجیب لگ رہا کہ کیسے ہمارے ووٹوں سے آئے ہوئے نمائندگان اب بیٹھے پارٹیاں بدل رہے ہیں۔ دوست اور دشمن اکٹھے ہوئے جارہے ہیں۔ جب آپ سب اکٹھے تھے تو الیکشن کس کے خلاف لڑتے ہو؟ اس بھولی عوام کو پاگل نہ بناؤ۔ سیاست ،سیاست ہے بس۔ ظفر ہلالی سینیئر تجزیہ کار کا مجھے جملہ یاد آتا ہے۔ کہ آپ نے سنا ہے کبھی لفظ "پیسہ"؟ عوام کو کھانے کو پیسہ نہیں ملتا اور سیاستدان ایک دوسرے کو خریدنے کے لیے پیسہ لٹا رہے ہیں۔ منڈی چل رہی ہے۔ دین کا سیاست سے ایک تعلق ہونا چاہیے تھا مگر یہاں تو دین سے بے راہ روی اور دوری کی وجہ سے "مذہب" تو صرف تصنع کا میڈل بن گیا ہے جو ہر پارٹی نے گلے میں ڈال رکھا ہے۔ یہاں عوام کا استحصال ہورہا ہے جسے انتخابات کے بعد پانچ سال تک مہنگائی میں الجھایا جاتا ہے۔ ہمارے رائے تو انتخابات کے وقت کام آئے گی۔ اگر ہم اصول اور قاعدے پر یقین رکھتے ہیں تو ان لوگوں کو منتخب کیا جائے جو ملک اور قوم کے حقیقی وفادار اور خیرخواہ ہوں۔ اب پھر کبھی ان کو ایک دوسرے کے خلاف اٹھے بھی دیکھنا جب یہ منتخب کردہ وزیر اعظم کو اگر ہرا پائے تو بعد میں سیٹوں کے حصول کے لیے آپس میں لڑیں گے۔ اے میرے عوام، اگلے آنے والے الیکشن میں موجودہ صورتحال کو یاد رکھنا، یادداشت کو مضبوط رکھنا۔ آپ کی رائے کا کیا احترام ہے ۔ آپ کا ووٹ تو ایک گنتی کا حصہ تھا۔ اب تو سارے فیصلے تو انھوں نے خود کرنے ہیں۔یہ سیاسی شعور پیدا کرنے کا وقت ہے۔ عوام اپنے ووٹ کی طاقت کو سمجھے اور اس کا صحیح استعمال کرے۔
اللہ پاک ملک پاکستان کا حامی وناصر ہو. آمین

Democracy cannot succeed unless those who express their choice are prepared to choose wisely. The real safeguard of democracy, therefore, is education.

- Franklin D. Roosevelt

متعلقہ عنوانات