جگہ جگہ سے شکستہ ہیں خم ہیں دیواریں
جگہ جگہ سے شکستہ ہیں خم ہیں دیواریں نہ جانے کتنے گھروں کا بھرم ہیں دیواریں چھتوں کا ذکر ہی کیا ان کو لے اڑی ہے ہوا اب حادثات کے زیر قدم ہیں دیواریں برستی بارشوں میں ہوں گی موجب خطرہ ابھی تو دھوپ میں ابر کرم ہیں دیواریں ہمارے خیمے طنابوں کے بل پہ قائم ہیں چھتیں تو خوب میسر ہیں ...