مرے کمرے کو صحرا کر رہا ہے

مرے کمرے کو صحرا کر رہا ہے
تمہارا غم کرشمہ کر رہا ہے


مری آنکھوں کی مسجد کا مؤذن
ترے چہرے پہ سجدہ کر رہا ہے


کئی بیمار ایسے بھی ہیں جن کو
تمہارا ذکر اچھا کر رہا ہے


گہن دھبا نہیں ہے بد دعا کا
خدا سورج پہ سایہ کر رہا ہے


طبیب خوش نوا کا وقتی مرہم
مرے زخموں کو گونگا کر رہا ہے


تعفن اٹھ رہا ہے شاعری سے
کوئی تو ہے جو چربہ کر رہا ہے


نہ جانے کیا ہوا ہے نا خدا کو
کنارے سے کنارا کر رہا ہے


ہزاروں لوگ جس سے مر گئے ہیں
ہمیں وہ زہر اچھا کر رہا ہے