Reshma Naheed Resham

ریشمہ ناہید ریشم

ریشمہ ناہید ریشم کے تمام مواد

5 غزل (Ghazal)

    تسخیر سب نجوم و مہ و کہکشاں ہوئے

    تسخیر سب نجوم و مہ و کہکشاں ہوئے مجھ کو تھا وہ جنوں کہ نگوں دو جہاں ہوئے میں زیست کے سفر میں اکیلی جو چل پڑی عزم و جنوں و شوق مرے کارواں ہوئے دریا تو ایک پل میں سمندر سے جا ملا آنسو ٹھٹھک کے آنکھ میں اک داستاں ہوئے نشے میں تخت و تاج کے کل تک جو چور تھے سچ ہے لحد میں آج وہی بے نشاں ...

    مزید پڑھیے

    دریا تھا ساتھ پھر بھی عجب بے بسی رہی

    دریا تھا ساتھ پھر بھی عجب بے بسی رہی سیراب ہم ہوئے تو مگر تشنگی رہی اہل سفر کو جستجو منزل پہ لے گئی گرد سفر ہماری یہ آوارگی رہی جھکتے ہیں ہم غرض کے لیے رب کے سامنے بے لوث اب کسی کی کہاں بندگی رہی دیوار کیا کھڑی ہوئی آنگن کے درمیاں چھت سے اترتی دھوپ بھی سہمی ہوئی رہی آنکھوں میں ...

    مزید پڑھیے

    مت جانیے پیکار میں بس ناز و ادا کا

    مت جانیے پیکار میں بس ناز و ادا کا عورت میں ہے دم معرکۂ جور و جفا کا منزل پہ پہنچ سکتے نہیں ایسے مسافر ہر گام پہ ہو خوف جنہیں آبلہ پا کا ہر درد کا درماں ہے شراب غم الفت اک گھونٹ میں ہم پیتے ہیں اک جام شفا کا میں سن کے جسے لوٹ گئی بیچ سفر سے مانوس صدا تھی کہ وہ دھوکا تھا صدا کا بے ...

    مزید پڑھیے

    کس کی آمد سے بہاراں ہوا مسکن مسکن

    کس کی آمد سے بہاراں ہوا مسکن مسکن آج گل کھلتے رہے چار سو گلشن گلشن وہ جو اٹھی تھی مری سمت اچٹتی سی نگاہ کر گئی راکھ سکوں کا مرے خرمن خرمن سانس حدت سے کئے رکھتی ہے مجھ کو سرشار کون پیکر میں مرے بس گیا دھڑکن دھڑکن دیکھیے اس بت کافر کے ستانے کی ادا خواب میں دکھتا ہے تو بھی پس چلمن ...

    مزید پڑھیے

    اب کے سوچا ہے یہ دستور نرالا رکھوں

    اب کے سوچا ہے یہ دستور نرالا رکھوں تم قریب آؤ تو میں فاصلہ تھوڑا رکھوں نت نئے عذر سے تم مجھ کو منا لیتے ہو ہوں نئے عذر تو کیوں بغض پرانا رکھوں بستر ہجر پہ حدت سے تصور کے جو خود موم سا پگھلے میں شب بھر وہ سراپا رکھوں لکھنے بیٹھوں جو محبت کا فسانہ میں کبھی عنواں ریشمؔ ہو مگر ذکر ...

    مزید پڑھیے