پہر، آٹھوں پہر اورپہرے دار پر شاعری

قدیم ہندوستان میں وقت ناپنے کا پیمانہ پہر ہوا کرتے تھے۔ دن رات کے آٹھ پہر تھے، اور ہر پہر تین گھنٹے کا ہوا کرتا تھا۔ ہر پہر کے دوران پہرے دار چوکسی پر رہتے تھے اور ہر گھنٹہ پورا ہونے پر دھات کے بنے گھنٹے پر چوٹ دے کر اعلان کرتے تھے کہ وہ پہرے پر ہیں اور دوسرے یہ بھی پتہ چلتا تھا کہ وقت کیا ہوا ہے۔ پہر سنسکرت لفظ "پرہر" سے بنا ہے۔ اب پہرے دار کا مطلب صرف سنتری، محافظ یا چوکی دار رہ گیا ہے۔

اردو شاعری میں "آٹھوں پہر"، "رات کے پچھلے پہر"، اور "سہ پہر" کا بہت ذکر رہتا ہے، نمونے کے طور پر یہ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

 سہ پہر:

آہستگی سے گھٹتی ہوئی سہ پہر کی دھوپ

دل میں اتر رہی ہے کسی خواب کی طرح

امجد اسلام امجد

سہ پہر ہی سے کوئی شکل بناتی ہے یہ شام

خود جو روتی ہے مجھے بھی تو رلاتی ہے یہ شام         

             شاہد لطیف

 

 آٹھوں پہر:

اشک آنکھوں میں لئے آٹھوں پہر دیکھے گا کون

ہم نہیں ہوں گے تو تیری رہ گزر دیکھے گا کون

افضل الہ آبادی

آٹھوں پہر لہو میں نہایا کرے کوئی

یوں بھی نہ اپنے درد کو دریا کرے کوئی

فضیل جعفری

رات کا پچھلا پہر:

رات کے پچھلے پہر رونے کے عادی روئے

آپ آئے بھی مگر رونے کے عادی روئے  

          احمد فراز

رات کے پچھلے پہر اک سنسناہٹ سی ہوئی

اور پھر ایک اور پھر ایک اور آہٹ سی ہوئی

زبیر شفائی

"سہ" فارسی میں تین کو کہتے ہیں۔ دن کے تیسرے پہر کو سہ پہر بھی کہتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات