کھل گیا نہ ہو کسی اور طرف باب مرا

کھل گیا نہ ہو کسی اور طرف باب مرا
کہیں آوارۂ غربت ہی نہ ہو خواب مرا


خطہ خاک میں کچھ خاک پہ تہمت میری
سر افلاک کوئی خیمۂ ماہتاب مرا


دل آوارہ کہیں چشم کہیں خواب کہیں
کیسا بکھرا در آفاق پہ اسباب مرا


خواہش جاں بھی لرز جاتی ہے ہر اشک کے ساتھ
میری مٹی کو بھی لے جائے نہ سیلاب مرا


دل کہاں اور کہاں شورش پیہم دل کی
کس تمنا میں رواں ہے تن بیتاب مرا