خود رہ کے مشکلات میں حل دے دیا اسے
خود رہ کے مشکلات میں حل دے دیا اسے
میں وہ شجر خزاں میں بھی پھل دے دیا اسے
موتی لٹائے میں نے سمندر تھا جب تلک
اب جھیل ہو گیا تو کنول دے دیا اسے
پتھراؤ جس کا شیوہ دل آزاری جس کا شوق
منصف خدا ہے شیش محل دے دیا اسے
وہ اک غریب مجھ سے ملا ہو گیا امیر
میں اک فقیر درس عمل دے دیا اسے
پوری ہوئی نہ شرط محبت تو خواب میں
بلوایا اور تاج محل دے دیا اسے
اس نے کہا کہ حسن کی تعریف کیجئے
اک شعر جو تھا حسن غزل دے دیا اسے
اب تا ابد اسی کی حکومت میں ہے جہاں
سب کچھ خدا نے روز ازل دے دیا اسے
شیداؔ بہت خلیق ہے کہتے ہیں سارے لوگ
رب نے محبتوں کا بدل دے دیا اسے