اول اول کی جوانی میں ابال آیا تھا

اول اول کی جوانی میں ابال آیا تھا
بعد میں جا کے کہیں ضبط کمال آیا تھا


میرے وجدان نے بر وقت بتایا تھا مجھے
ہجر کا خواب مجھے وقت وصال آیا تھا


کو بہ کو پھیل گئی اس کے بدن کی خوشبو
صاف لگتا ہے وہی زہرہ جمال آیا تھا


خود کو پانے کے لیے خود میں اتر کر اپنے
بحر و بر ہاتھ کی چھلنی میں کھنگال آیا تھا


وقت کے جبر کی دہلیز پہ بیٹھا جس دم
غم کی تحریک سے خوشیوں پہ زوال آیا تھا


اب تو احباب بھی دم بھر کو ٹھٹک جاتے ہیں
جب میں آیا تھا یہاں کتنا نہال آیا تھا


عابدیؔ کون بتائے گا مرے بعد اسے
ڈوبتے وقت مجھے اس کا خیال آیا تھا