Khwaja Ali Husain

خواجہ علی حسین

خواجہ علی حسین کے تمام مواد

11 غزل (Ghazal)

    کب خزانہ تلاش کرتا ہوں

    کب خزانہ تلاش کرتا ہوں آب و دانہ تلاش کرتا ہوں جس زمانے کو ہے تلاش مری وہ زمانہ تلاش کرتا ہوں لے کے دریا کو اپنی مٹھی میں کوئی پیاسا تلاش کرتا ہوں کام دھندا ہے اب یہی میرا کام دھندا تلاش کرتا ہوں تیرا چہرہ تو ہر طرف پایا اپنا چہرہ تلاش کرتا ہوں تھک گیا ہوں تلاش کر کر کے پھر ...

    مزید پڑھیے

    جس طرح وقت کی سرحد کا کنارا ہی نہ ہو

    جس طرح وقت کی سرحد کا کنارا ہی نہ ہو دن اسی طور گزارا کہ گزارا ہی نہ ہو ترک الفت کو زمانہ ہوا لیکن اب تک ایسا لگتا ہے تجھے دل سے اتارا ہی نہ ہو چپ رہے تو تو لگے جیسے پکارا ہے مجھے جب پکارے تو لگے جیسے پکارا ہی نہ ہو سوچ لینے سے غزل ساختہ ہو جاتی ہے وہ غزل پیش کرو جس کو سنوارا ہی نہ ...

    مزید پڑھیے

    کرب تخلیق کا چھایا رہا منظر مجھ پر

    کرب تخلیق کا چھایا رہا منظر مجھ پر آیت عشق اترتی رہی شب بھر مجھ پر ایک ساعت کو بھلایا تھا غم عشق ابھی بند ہونے لگا تخلیق کا ہر در مجھ پر جاگتے وقت وہی شخص لبادہ تھا مرا نیم شب کو جو اتارا گیا پیکر مجھ پر چیل کوؤں کی طرح کھا گئے رشتے میرے پھر بھی الزام دھرا جاتا ہے مجھ پر مجھ ...

    مزید پڑھیے

    وجود خواب میں ڈھل کر نڈھال تھوڑی ہے

    وجود خواب میں ڈھل کر نڈھال تھوڑی ہے مرے شعور میں اتنی مجال تھوڑی ہے زمانہ بیت گیا خود سے رسم و راہ کیے ہمارا خود سے تعلق بحال تھوڑی ہے مرے زمین سے اٹھتے ہوئے وجود کو دیکھ یہ رقص وجد ہے پاگل دھمال تھوڑی ہے ہر اک مقام پہ قائم رہے ہیں ہوش و حواس ہماری قیس کے جیسی مثال تھوڑی ہے عطا ...

    مزید پڑھیے

    سب یقیں بیچ کر سب گماں بیچ کر

    سب یقیں بیچ کر سب گماں بیچ کر میں تونگر ہوں سود و زیاں بیچ کر جھڑ گئے میری شاخوں سے برگ و ثمر پھر بہاریں خریدیں خزاں بیچ کر اک نیا آشیانہ بناؤں گا میں بر لب میکدہ اک مکاں بیچ کر سب بکے گا یہاں بیکسی کے سوا میں ابھی آ رہا ہوں زباں بیچ کر اپنے بچوں کی روزی کماتا رہا وہ عدالت میں ...

    مزید پڑھیے

تمام