عید قربان :حاجیوں کے گوشت کی تقسیم کا اضاحی پروگرام کیا ہے؟
عرب خبر رساں ادارے گلف نیوز نے رپورٹ کیا ہے اس سال صرف حج کے موسم میں سعودی عرب نے گیارہ لاکھ کے لگ بھگ جانور عید قربان پر قربانی کے لیے منگوائے ہیں۔ ظاہر ہے جب لاکھوں عازمین حج ، حج کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں تو ان کے لیے لاکھوں جانوروں کی ضرورت بھی ہوگی۔ اب یہ ضرورت تو سعودی عرب رپورٹ کے مطابق سوڈان، صومالیہ اور ان جیسے دیگر ممالک سے جانور منگوا کر پوری کر رہا ہے۔ لیکن ایک متجسس ذہن میں سوال ابھرتا ہے کہ جب یہ گیارہ لاکھ جانور اور دیگر جو سعودی عرب میں پہلے سے موجود ہیں، ذبح ہوں گے تو ان کے گوشت کا کیا ہوگا؟
اور ان کے گوشت کا معاملہ صرف اس سال تو نہیں ہے۔ یہ تو ہر سال ہوتا ہے۔ ہر سال اسی طرح لاکھوں جانور آکر عید قربان پر قربان ہوتے ہیں۔ وہاں موجود حاجی اور سعودی عوام کتنا گوشت کھا لیتے ہوں گے؟ باقی گوشت کا کیا ہوتا ہے؟ ظاہر ہے قربانی کا گوشت ہے، اسے بیچا بھی نہیں جا سکتا۔ آج کی تحریر میں ہم اسی پر سے پردہ اٹھائیں گے۔
قربانی کے گوشت کے لیے سعودی حکومت کا اضاحی پروگرام:
ایک عرصہ سعودی عرب میں عید قربان پر جانوروں کا بہت سا گوشت ضائع ہوتا رہا ہے۔ عرب نیوز کے مطابق 1983 سے پہلے قربانی کا گوشت جتنا حاجیوں اور مقامی افراد سے کھایا جاتا تھا، وہ کھاتے تھے، باقی یوں ہی گلیوں کوچوں میں بکھرا پڑا رہتا تھا۔ نہ صرف اس طرح اللہ کے رزق کا ضیاع ہوتا تھا بلکہ بہت تعفن بھی پھیلتا تھا۔ سعودی حکومت کے لیے یہ درد سر ہوا کرتا تھا۔ اس بکھرے گوشت کو بڑے بڑے گڑھے کھود کر دبا دیا جاتا تھا۔ پھر 1983 میں سعودی حکومت نے اس گوشت کو ملک سے باہر غربا تک پہنچانے کا بیڑا اٹھایا۔ اس کی ذمہ داری اسلامک ڈویلپمنٹ بینک کو سونپی گئی۔ 2000 عیسوی میں ’اضاحی ‘کے نام سے ایک پروگرام تشکیل دیا گیا، جس کے ذریعے دنیا بھر میں حج کے بعد قربان ہونے والے جانوروں کے گوشت کو تقسیم کرنے کا انتظام کیا گیا۔
عرب نیوز کے مطابق اس پروگرام میں چالیس ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں جو ستائیس ممالک میں گوشت کو پہنچاتے ہیں۔ یہ ملازمین انتظامی امور، ذبح، شپنگ، اور تقسیم کرنے کے شعبہ جات میں کام کرتے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت تین کروڑ مہاجرین اور دیگر غربا تک گوشت پہنچایا جاتا ہے۔