عہد نامۂ عشق

بہت مدت ہوئی میں نے

 

 بہت مدت ہوئی میں نے

کبھی بھی شاعری لکھنے ،

غزل کہنے

انوکھے حرف بُننے ، نظم کو تخلیق کرنے کے

 حسیں احساس سے خود  کو رِہا کرنے کا وعدہ کر لیا تھا

غم و آلام ، نِیر و عاشقی ،

پروانہ و شمَع

صدائے تیشہ و مزدوریِ عشرت گہِ خسرو

 سبھی سے ہٹ کے چلنے کا ارادہ کر لیا تھا

محبت ، خواب ، صحرا ،

ہوش یا دیوانگی کی

 سب حدوں سے ماوراء

 اک ان سُنی، ان دیکھی منزل تک

 پہنچنے کے لیے تیّار جادہ کر لیا تھا

سو مَیں نے  میر و سودا ،

 غالب و ناصر کی ہر ترکیب،

شہر آشوب ،

ہر اک ساغر و خُم چھوڑ کر اب

 مسترد ہر جام و بادہ کر لیا تھا

 

مَیں شہر آرزو سے جا رہا تھا جب

 مجھے میرے شکستہ قافلے کی آبرو نے

 جاں بلَب ہو کر پکارا

"تری عِزّت،  حمِیّت ، عظمت و رَفّعَت کے سب اسباب ،

سب احباب

 خاک اور خون میں غلطاں رہیں گے" ،

مجھے میرے عدو نے خندہ لب ہو کر پکارا

 

سو میں واپس پلٹ آیا

،

اور اب  

رب کو

 اور اس سب کو

جسے اس مالکِ ہر انفُس و آفاق نے پیدا کیا ہے

مَیں شاہد کر کے کہتا ہوں

کہ میں باقی رہوں یا نہ رہوں لیکن

 قلم میرا ، علَم میرا

یہ میری چشمِ پُر نم ، یہ بُریدہ ، سر قلَم میرا

محاذِ زندگی کے ہر قدم ، ہر موڑ پر میرے ڈٹے رہنے،

مِرے بے خوف جینے اور مرنے کی شہادت دیں گے،

وعدہ کر رہا ہوں

محبت ، سچ ، وفا اور خواب کی تعبیر،

 جس بستی میں یہ سب مل سکے،

 وہ جستجو ہے ،میری منزل ہے

نہیں جادہ مِرا کچھ

پر میں اس منزل کو پانے کا ارادہ کر رہا ہوں

نشاطِ خواب سے بیدار ہو کر

 جاگتی آنکھوں کے خوابوں سے لبا لب

 اپنا بادہ کر رہا ہوں

 

متعلقہ عنوانات