آنکھ سمندر

 آنکھ سمندر

 

آنکھ سمندر

بِہتے بِہتے

حال دِلوں کا کہتے کہتے

جِس پل تھم کر پل بھر سوچے

"اچھا تھا خاموش ہی رہتے"

نیر کی دھارا جب تھم جائے

سرد ہوا کو سہتے سہتے

 

تب سمجھو شب بیت چکی ہے

یا اک لمحہ سانس رکی ہے

آنکھ جُھکی ہے

ڈوب چلی ہے شام،  دسمبر

ڈھلتی عمر کے خالی ساغر

شور مچاتا روح کا ساگر

خاموشی ہے دل کے اندر

آنکھ سمندر

متعلقہ عنوانات