دنیا کے سات عجوبے۔۔۔جن کو دیکھ آنکھیں دنگ رہ جائیں

دنیا بہت عجیب و غریب چیزوں سے بھری ہوئی ہے۔۔۔دنیا کے عجوبے بہت مشہور ہیں۔۔۔کیا آپ ایسی حیرت انگیز عمارتوں کے بارے میں جانتے ہیں جن کو دیکھ انسانی آنکھ دنگ رہ جاتی ہے۔۔۔دنیا کے نئے سات عجوبے۔۔۔

دنیا کے سات عجائبات (Seven wonders of the world)کی اولین فہرست دو ہزار سال قبل مرتب کی گئی تھی۔ اس فہرست میں اہرام مصر، بابل کے معلق باغات، زیوس کا دیو ہیکل مجسمہ، آرتمیس کا معبد، موسولس کا مقبرہ، روڈس کا قد آور مجسمہ اور اسکندریہ کا روشن مینار شامل تھے۔ ایک طویل عرصے تک عجائبات کی یہ فہرست قائم رہی تاہم 2000ء میں سوئٹزرلینڈ کی ایک فائونڈیشن نے دیکھا کہ مذکورہ سات عجائبات میں سے چھ عجائبات تو زمانے کی دست و برد (یعنی زلزلوں اور آتش زدگی) کا شکار ہو چکے ہیں اور صرف اہرام مصر باقی ہیں۔ زیورخ سوئٹزرلینڈ میں واقع اس فائونڈیشن (The New 7 Wonders Foundation) نے دنیا کے سات عجائبات کی فہرست کو از سر نو مرتب کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سلسلے میں عوامی رائے حاصل کرنے کا اہتمام کیا۔ اس سلسلے میں دس کروڑ سے زائد افراد کی رائے شامل کی گئی اور بالآخر 2007 میں دنیا کے نئے سات عجائبات کا اعلان کیا گیاجو اس وقت کرہ ارض پر موجود ہیں۔ان کی مختصر تفصیل کچھ یوں ہے۔

1۔ عظیم دیوارِ چین  (Great Wall of China)

عظیم دیوارِ چین کو دنیا کی سب سے طویل دیوار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس عظیم  دیوار کی تعمیر  ساتویں صدی قبل مسیح میں شروع ہوئی اور دو ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک جاری رہنے کے بعد 1681 ء میں مکمل ہوئی۔ اسے بنیادی طور پر چین کو بیرونی  حملوں سے روکنے کے لیے بنایا گیا تھا۔   اس کی لمبائی تقریباً 9000 کلومیٹرہے۔اس دیوار کی اوسط اونچائی 25 فٹ (8 میٹر) تک ہے جبکہ اس کی چوڑائی 4 سے 5 میٹر (13 سے 16 فٹ) ہے۔اگر آپ چہل قدمی کرتے ہوئے اس دیوار کے آخر تک جانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو 18 مہینے درکار ہوں گے۔ 

2۔ کرائسٹ دی ریڈیمر، برازیل (Christ the Redeemer)

کرائسٹ دی ریڈیمر، حضرت عیسی ؑ  کا ایک بہت بڑا مجسمہ ہے جو ریو ڈی جنیرو میں ماؤنٹ کورکوواڈو کے اوپر کھڑا ہے۔ یہ شہر برازیل کا دارالحکومت بھی ہے۔یہ مجسمہ پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا ہے۔یہاں سے پورے شہر کا نظارہ کا جا سکتا ہے۔ اس مجسمے  کی تعمیر 1926 میں شروع ہوئی اور پانچ سال بعد1931ء میں  مکمل ہوئی۔ اس مجسمے کی اونچائی 39 میٹر  ، چوڑائی (یعنی بازئووں کا پھیلائو) 30 میٹر اور وزن 635 ٹن ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا آرٹ ڈیکو مجسمہ ہے۔ کرائسٹ دی ریڈیمر مضبوط کنکریٹ سے بنا ہے اور لگ بھگ چھ ملین ٹائلوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ اس  مجسمے پر اکثر آسمانی بجلی گرتی رہی ہے، اور 2014 میں طوفان کے دوران مجسمے کے دائیں انگوٹھے کی نوک کو نقصان پہنچا تھا۔ اس مجسمے نے ریو ڈی جنیرو کو کرہ ارض پر سب سے زیادہ مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک بنانے میں اہم کردار ادا کیاہے۔ 

3۔ چیچن اٹزا(عتزا) ، میکسیکو (Chichen Itza)

چیچن اٹزا میکسیکو میں یوکاٹان نامی جزیرے  پر ایک  مایاشہر ہےجو 9ویں اور 10ویں صدی عیسوی میں پروان چڑھا۔یہ شہر مایا تہذیب کا سب سے بڑا شہر تھا۔چیچن عتزا دراصل مایا زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے "عتزا کے کنویں کے منہ پر"۔ عتزا پانی کے جادوگر کو کہاجا تھا۔ مایا قبیلے نے متعدد اہم یادگاریں اور مندر تعمیر کیے گئے۔ سب سے زیادہ قابل ذکر قدموں والا اہرام ایل کاسٹیلو ("کیسل") ہے، جو مین پلازہ سے 79 فٹ (24 میٹر) بلند ہے۔ مایوں کی فلکیاتی صلاحیتوں کا ایک ثبوت، اس عظیم اہرام میں 365 سیڑھیاں ہیں یعنی شمسی سال میں دنوں کی تعداد کے برابر سیڑھیاں۔گویا اسے خاص طور پر یہ فلکیات کے اصولوں کے تحت بنایا گیا تھا اور وینس کے لیے ایک پلیٹ فارم بھی ہے۔

4۔ پیٹرا۔ اردن  (Petra)

پیٹرا، اردن کا قدیم شہرہے جو  ایک دور افتادہ وادی میں واقع ہے۔ یہ قدیم عجوبہ کئی صدیوں سے بیرونی دنیا سے پوشیدہ تھا۔ یہ ریت  کے پہاڑوں اور پتھریلی چٹانوں کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے یہ ان جگہوں میں سے ایک ہے جہاں حضرت موسیٰ ؑ نے ایک چٹان پر اپنا عصا  مارا اور وہاں سے پانی نکلا۔ بعد ازاں ناباطین نامی ایک عرب قبیلے نے اسے اپنا دارالحکومت بنایااور اس دوران یہ  مصالحوں کے لیے ایک اہم تجارتی مرکز بن گیا۔ اس کے علاوہ یہاں  آب پاشی  کا ایسا  نظام بنایا جس سے سرسبز باغات اور کھیتی باڑی کی اجازت تھی۔ اپنے عروج پر، پیٹرا کی آبادی 30,000 تھی۔ تاہم، تجارتی راستے بدلتے ہی شہر میں کمی آنا شروع ہو گئی۔ 363 عیسوی میں ایک بڑے زلزلے نے مزید مشکلات پیدا کیں، اور 551 ءمیں ایک اور زلزلے کے بعد پیٹرا کو آہستہ آہستہ ترک کر دیا گیا۔ اسے  1812 ءمیں سوئس ایکسپلورر جوہان لڈوگ برکھارٹ نے "دریافت" کیا تھا۔ تب سے کھویا ہوا شہر اردن میں سیاحوں کی توجہ کا  سب سے بڑا مرکز بن گیا ۔ 

5۔ روم (اٹلی) میں واقع دنیا کا سب سے قدیم ایمفی تھیٹر(کولوزیم) (Colosseum)

روم کا یہ تھیٹر ( کولوزیم) پہلی صدی میں شہنشاہ ویسپاسین کے حکم سے تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ تعمیراتی انجینئرنگ کا ایک شاہکار ہے۔یہ عمارت مکمل طور پر کنکریٹ اور پتھروں سے بنی ہے۔ایمفی تھیٹر کی پیمائش 620 X 513 فٹ (189 X 156 میٹر) ہے اور اس میں بھول بھلیوں  کا ایک پیچیدہ نظام موجود ہے۔ یہاں  50,000 سے زائد شائقین کے بیٹھنے کا انتظام موجود  تھاجنہوں نے مختلف قسم کے واقعات کو دیکھا جن میں شاید سب سے زیادہ قابل ذکر گلیڈی ایٹر کی لڑائیاں تھیں۔ نیز  مردوں کا جانوروں سے لڑنا بھی عام تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے  کہ وہاں عیسائیوں کو شیروں کے سامنے پھینک کرشہید کیا گیا تھا۔ کچھ اندازوں کے مطابق کولوزیم میں تقریباً 500,000 افراد ہلاک ہوئے۔ مزید برآں یہاں  دس لاکھ سے  زیادہ جانور مارے گئے جن میں سے  بعض کی نسلیں مبینہ طور پر معدوم ہو گئیں۔

6۔ ماچو پچو۔پیرو (Machu Picchu)

ماچو پیچو جسے عرف عام میں "انکا" قبیلے کا گمشدہ شہر بھی کہا جاتا ہے، پیرو کے کسکو صوبے میں واقع ہے۔سطح سمندر سے 8000 فٹ بلند یہ شہر  1400 ء کے عرصے میں آباد کیا گیا تھا۔ پانچ صدیوں تک یہ شہر باقی دنیا سے پوشیدہ رہا۔1911 میں مغربی دنیا کی طرف سے دریافت  ہونے کے بعد اس کی دیکھ بھال کا کام شروع ہوا۔۔ ماچو پچو اپنے متاثر کن مقام کے ساتھ اس فہرست میں شامل ہونے کا مستحق ہے۔ انہوں نے سینکڑوں سال پہلے پہاڑ کے کنارے یہ ڈھانچے کیسے بنائے یہ سمجھ سے باہر ہے لیکن آج اسے دیکھ کر آپ کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔

  یہ جگہ 1911 میں امریکی تاریخ دانں حیرم  بنگھم نے دریافت کی تھی۔ بنگھم کا خیال تھا کہ یہ "سورج کی کنواریوں" کا گھر ہے، جو عفت کے عہد کے تحت یہاں رہتی تھیں کیونکہ یہاں کی کھدائی کے دوران ہزاروں کی تعداد میں عورتوں کی کھوپڑیاں دریافت ہوئی ہیں۔ 

7۔ تاج محل۔ آگرہ (Taj Mahal)

آگرہ( بھارت) میں واقع اس مقبرے کے احاطے کو دنیا کی سب سے مشہور یادگاروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور شاید مغل فن تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔  اسے ایک خوبصورت محبت کی کہانی بھی سمجھا جاتا ہے کیونکہ اسے 1658 میں شہنشاہ شاہ جان نے مکمل کیا تھا جس نے اسے اپنی بیوی ممتاز  کے لیے بنایا تھاجو تعمیر شروع ہونے کے صرف تین سال بعد 1631 میں مر گئی لیکن بادشاہ نے اس کی یاد کا احترام جاری رکھا۔اس کمپلیکس کی تعمیر میں تقریباً 22 سال کا عرصہ  اور 20,000 کارکنوں کی محنت صرف ہوئی۔ اس میں ایک خوبصورت تالاب کے ساتھ ایک بہت بڑا باغ بھی شامل ہے۔

مقبرہ سفید سنگ مرمر سے بنا ہے۔ اس کا شاندار مرکزی گنبد چار چھوٹے گنبدوں سے گھرا ہوا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق شاہ جہاں کی خواہش تھی کہ اس کا اپنا مقبرہ سیاہ سنگ مرمر سے بنایا جائے۔ تاہم  کام شروع ہونے سے پہلے ہی اسے تخت سے معزول ہونا پڑا۔