چاند تنہا ہے آسماں تنہا
چاند تنہا ہے آسماں تنہا
دل ملا ہے کہاں کہاں تنہا
بجھ گئی آس چھپ گیا تارہ
تھرتھراتا رہا دھواں تنہا
زندگی کیا اسی کو کہتے ہیں
جسم تنہا ہے اور جاں تنہا
ہم سفر کوئی گر ملے بھی کہیں
دونوں چلتے رہے یہاں تنہا
جلتی بجھتی سی روشنی کے پرے
سمٹا سمٹا سا اک مکاں تنہا
راہ دیکھا کرے گا صدیوں تک
چھوڑ جائیں گے یہ جہاں تنہا