بے خبر ہونے سے پہلے کی خبر تو دیکھتے

بے خبر ہونے سے پہلے کی خبر تو دیکھتے
ڈوبتے سورج کی جانب اک نظر تو دیکھتے


چھیڑ کر ذکر جدائی سامنے اس کے کبھی
اس کے چہرے سے ہویدا اس کا ڈر تو دیکھتے


دیکھنے اس کو گلی کی سمت گر جانے کو تھے
اوج پر بیتابیٔ دیوار و در تو دیکھتے


جس نے ملنا ہی نہیں ہے اس کو پانے کی تلاش
بے وجہ کر کے کبھی کوئی سفر تو دیکھتے


ہاتھ سے چھو کر نہیں تو پاس ہی جا کر اسے
شہر میں اترا ہے اک رشک قمر تو دیکھتے


گرمیوں میں دشت ہجراں کا سفر رکھنا کبھی
دھوپ میں جل کر ثمر دیتے شجر تو دیکھتے


رات کی تاریکیوں میں گھر سے نکلو تو نعیمؔ
دیکھتے ہیں کس طرح سے بے بصر تو دیکھتے