زندگی رین بسیرے کے سوا کچھ بھی نہیں
زندگی رین بسیرے کے سوا کچھ بھی نہیں یہ نفس عمر کے پھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں جسے نادان کی بولی میں صدی کہتے ہیں وہ گھڑی شام سویرے کے سوا کچھ بھی نہیں دل کبھی شہر سدا رنگ ہوا کرتا تھا اب تو اجڑے ہوئے ڈیرے کے سوا کچھ بھی نہیں ہاتھ میں بین ہے کانوں کی لوؤں میں بالے یہ ریاکار سپیرے ...