Sher Afzal Jafri

شیر افضل جعفری

  • 1909 - 1989

شیر افضل جعفری کی غزل

    زندگی رین بسیرے کے سوا کچھ بھی نہیں

    زندگی رین بسیرے کے سوا کچھ بھی نہیں یہ نفس عمر کے پھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں جسے نادان کی بولی میں صدی کہتے ہیں وہ گھڑی شام سویرے کے سوا کچھ بھی نہیں دل کبھی شہر سدا رنگ ہوا کرتا تھا اب تو اجڑے ہوئے ڈیرے کے سوا کچھ بھی نہیں ہاتھ میں بین ہے کانوں کی لوؤں میں بالے یہ ریاکار سپیرے ...

    مزید پڑھیے

    مستی ازل کی شہ پر جبریل ہو گئی

    مستی ازل کی شہ پر جبریل ہو گئی میری بیاض پرتو انجیل ہو گئی دل کا گداز آہ کی تاثیر دیکھ کر پتھر کی ذات کانپ کے تحلیل ہو گئی ہر لفظ کنکری کی طرح غیر پر گرا اپنی دعا فلک پہ ابابیل ہو گئی فرعون بے کرم جو ہوا مائل ستم ندی مرے لہو کی وہیں نیل ہو گئی جانا تھا زود‌ تر مجھے میدان حشر ...

    مزید پڑھیے

    جب سوز دعا میں ڈھلتا ہے

    جب سوز دعا میں ڈھلتا ہے ہونٹوں پہ دیپک جلتا ہے مسجد کی زمیں پہ سرو دعا آہوں کی لو میں پھلتا ہے اک سجدہ دل کے ماتھے پر ہر پچھلی رات مچلتا ہے پلکوں پہ لرزتے اشکوں سے درویش کا روپ اجلتا ہے غصے کو پی کے رند رضا نشے میں پھول اگلتا ہے خواہش کے خوں کی برکھا سے کردار کا بوٹا پلتا ...

    مزید پڑھیے

    پھول شعروں کی روانی میں چلے تلوار بھی

    پھول شعروں کی روانی میں چلے تلوار بھی بانسری کی تان میں ہے نیمچے کی دھار بھی دل کی دھرتی پر کپل وستو میں خیبر چاہئے آدمی گوتم بھی ہو اور حیدر کرار بھی درد پر ہے اس کے چڑھنے اور اترنے کا مدار دل وہ دریا ہے کہ ہے پایاب بھی منجدھار بھی ٹانک دے آہ و بکا میں شبنمی چنگاریاں آنکھ ...

    مزید پڑھیے

    ندی کنارے جو نغمہ سرا ملنگ ہوئے

    ندی کنارے جو نغمہ سرا ملنگ ہوئے حباب موج میں آ آ کے جل ترنگ ہوئے ارم کے پھول ازل کا نکھار طور کی لو سخی چناب کی وادی میں آ کے جھنگ ہوئے کبھی جو ساز کو چھیڑا بہار مستوں نے تو گنگ گنگ شجر ہم زبان چنگ ہوئے عطا کیا ترے ماتھے نے جن کو عید کا چاند نثار ان پہ ستاروں کے راگ رنگ ہوئے شب ...

    مزید پڑھیے

    جلوہ بے مایہ سا تھا چشم و نظر سے پہلے

    جلوہ بے مایہ سا تھا چشم و نظر سے پہلے زیست اک حادثہ تھی قلب و جگر سے پہلے حسن کے سوز نمائش کا ہے انعام حیات وقت بھی وقت نہ تھا شمس و قمر سے پہلے وحی اتری دل بے تاب کی تشکیل کے بعد عشق تعمیر ہوا علم و ہنر سے پہلے عین فردوس میں جل اٹھا تھا آدم کا شباب آگ برسی تھی یہیں دیدۂ تر سے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2