Sher Afzal Jafri

شیر افضل جعفری

  • 1909 - 1989

شیر افضل جعفری کی غزل

    ٹہنیاں پھولوں کو ترسیں گی یہاں تیرے بعد

    ٹہنیاں پھولوں کو ترسیں گی یہاں تیرے بعد وادیٔ جھنگ سے اٹھے گا دھواں تیرے بعد لاڈلے شیشموں کی بھاگ بھری شاخوں سے کونپلیں پھوٹیں گی بن بن کے فغاں تیرے بعد دھندلی دھندلی نظر آئیں گی سہانی راتیں ہچکیاں لے گا ''ترمّوں'' کا سماں تیرے بعد ناگ بن جائیں گی پانی کی شرابی لہریں آگ ...

    مزید پڑھیے

    یہ بجھے بجھے ستارے یہ دھواں دھواں سویرا

    یہ بجھے بجھے ستارے یہ دھواں دھواں سویرا کہیں آبرو کو ڈس لے نہ یہ باؤلا اندھیرا تری ناگ ناگ زلفیں کہیں رام ہو نہ جائیں کہ اٹھا ہے بین لے کے زر و مال کا سپیرا مرے شیشموں کی چھاؤں میں ہیں دھوپ کے ٹھکانے مری ندیوں کی لہروں میں ہے آگ کا بسیرا وہیں میں نے آرزوؤں کے حسیں دیئے ...

    مزید پڑھیے

    وقت آفاق کے جنگل کا جواں چیتا ہے

    وقت آفاق کے جنگل کا جواں چیتا ہے میری دنیا کے غزالوں کا لہو پیتا ہے عشق نے مر کے سوئمبر میں اسے جیتا ہے دل سری رام ہے دلبر کی رضا سیتا ہے اب بھی گھنشیام ہے اس دشت کا بوٹا بوٹا برگ نے آج بھی انساں کے لیے گیتا ہے جگمگاتی رہی اشکوں سے شب تار حیات دیپ مالا کی طرح دور الم بیتا ...

    مزید پڑھیے

    نطق پلکوں پہ شرر ہو تو غزل ہوتی ہے

    نطق پلکوں پہ شرر ہو تو غزل ہوتی ہے آستیں آگ سے تر ہو تو غزل ہوتی ہے ہجر میں جھوم کے وجدان پہ آتا ہے نکھار رات سولی پہ بسر ہو تو غزل ہوتی ہے کوئی دریا میں اگر کچے گھڑے پر تیرے ساتھ ساتھ اس کے بھنور ہو تو غزل ہوتی ہے مدت عمر ہے مطلوب ریاضت کے لیے زندگی بار دگر ہو تو غزل ہوتی ...

    مزید پڑھیے

    قدر کی رات بڑی پیاری ہے

    قدر کی رات بڑی پیاری ہے دن اسی رین کا درباری ہے مری آواز پہ مرکی مرکی لحن داؤد کی سرداری ہے رنگ لائے گی یہ اک دن آخر مری فریاد بھی پچکاری ہے اس ببر مرد کی اللہ رے قضا جس پہ اللہ نے رضا واری ہے طور بجلی کی جواں سال کڑک نور کی ریشمیں کلکاری ہے داغ کہتے ہیں جسے کملے کوی وہ تو ...

    مزید پڑھیے

    آسمانوں سے اتر کر مری دھرتی پہ براج

    آسمانوں سے اتر کر مری دھرتی پہ براج میں تجھے دوں گا پنپتے ہوئے گیتوں کا خراج دل کے صحرا پہ برس چیت کے بادل کی طرح خشک ٹیلے کو بھی دے پھولتی سرسوں کا مزاج نبض حالات میں اب رینگ کے چلتا ہے لہو کاش رکھ لے تو اترتے ہوئے دریا کی لاج چاند بن کر ذرا انسان کے ماتھے پہ ابھر تیرے جلووں کو ...

    مزید پڑھیے

    دار ہے مرد انا الحق کا وطن (ردیف .. ر)

    دار ہے مرد انا الحق کا وطن عرش ہے مرد خدا کی جاگیر روک لے ابر کرم گستر کو کھینچ کر برق تپاں کی زنجیر عقل کی پنجۂ بیعت سے نکل تیرا مرشد ترا مولا ہے ضمیر اس کے لکھے کو بدل سکتا ہے عشق جس کی تقدیر ہو پتھر پہ لکیر اس کا گھر پوچھتی پھرتی ہے رضا شیر افضلؔ ہے انا مست فقیر

    مزید پڑھیے

    اس کو اپنی ذات خدا کی ذات لگی ہے

    اس کو اپنی ذات خدا کی ذات لگی ہے میرے دل کو پاگل کی یہ بات لگی ہے کلجگ ہے اور پھر دکھڑوں کی برسات لگی ہے نوح کی کشتی میرے گھر کے ساتھ لگی ہے میرے پاس تہی دستی ہے درویشی ہے یہ دولت کب شہزادوں کے ہات لگی ہے گوری چٹی دھوپ نہ جوبن پر اترائے دن کے پیچھے کالی کالی رات لگی ہے ایک حسیں ...

    مزید پڑھیے

    بجلیاں پی کے جو اڑ جاتے ہیں

    بجلیاں پی کے جو اڑ جاتے ہیں وہ قیامت سے بھی لڑ جاتے ہیں قلب انساں کی جواں حدت سے آگ پر آبلے پڑ جاتے ہیں عشق جب وقت کو جھنجھوڑتا ہے حادثے کانپ کے جھڑ جاتے ہیں مقتل زیست سے محشر کی طرف رقص کرتے ہوئے دھڑ جاتے ہیں آہ کی زلزلہ اندازی سے عرش کے پائے اکھڑ جاتے ہیں ہم وہ انساں ہیں جو ...

    مزید پڑھیے

    جب عرش پہ دم توڑنے لگتی ہیں دعائیں

    جب عرش پہ دم توڑنے لگتی ہیں دعائیں دیتا ہے رگ جاں سے مجھے کوئی صدائیں پھر سرمد و منصور کا آتا ہے زمانہ اب اہل چمن گل کی جگہ دار اگائیں اس تشنہ کی برسات میں کیا پیاس بجھے گی کشمیر کے برفاب جسے آگ لگائیں یوں اپنی دعا سن کے چہک اٹھے فرشتے جس طرح سخن فہم کوئی مصرع اٹھائیں اللہ رے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2