ٹہنیاں پھولوں کو ترسیں گی یہاں تیرے بعد
ٹہنیاں پھولوں کو ترسیں گی یہاں تیرے بعد وادیٔ جھنگ سے اٹھے گا دھواں تیرے بعد لاڈلے شیشموں کی بھاگ بھری شاخوں سے کونپلیں پھوٹیں گی بن بن کے فغاں تیرے بعد دھندلی دھندلی نظر آئیں گی سہانی راتیں ہچکیاں لے گا ''ترمّوں'' کا سماں تیرے بعد ناگ بن جائیں گی پانی کی شرابی لہریں آگ ...