رحمان فارس کی غزل

    مجھے غرض ہے ستارے نہ ماہتاب کے ساتھ

    مجھے غرض ہے ستارے نہ ماہتاب کے ساتھ چمک رہا ہے یہ دل پوری آب و تاب کے ساتھ نپی تلی سی محبت لگا بندھا سا کرم نبھا رہے ہو تعلق بڑے حساب کے ساتھ میں اس لیے نہیں تھکتا ترے تعاقب سے مجھے یقیں ہے کہ پانی بھی ہے سراب کے ساتھ سوال وصل پہ انکار کرنے والے سن سوال ختم نہیں ہوگا اس جواب کے ...

    مزید پڑھیے

    خاک اڑتی ہے رات بھر مجھ میں

    خاک اڑتی ہے رات بھر مجھ میں کون پھرتا ہے در بدر مجھ میں مجھ کو خود میں جگہ نہیں ملتی تو ہے موجود اس قدر مجھ میں موسم گریہ ایک گزارش ہے غم کے پکنے تلک ٹھہر مجھ میں بے گھری اب مرا مقدر ہے عشق نے کر لیا ہے گھر مجھ میں آپ کا دھیان خون کے مانند دوڑتا ہے ادھر ادھر مجھ میں حوصلہ ہو تو ...

    مزید پڑھیے

    یہی دعا ہے یہی ہے سلام عشق بخیر

    یہی دعا ہے یہی ہے سلام عشق بخیر مرے سبھی رفقائے کرام عشق بخیر دیار ہجر کی سونی اداس گلیوں میں پکارتا ہے کوئی صبح و شام عشق بخیر میں کر رہا تھا دعا کی گزارشیں اس سے سو کہہ گئی ہے اداسی کی شام عشق بخیر بڑے عجیب ہیں شہر جنوں کے باشندے ہمیشہ کہتے ہیں بعد از سلام عشق بخیر یہ رہ ضرور ...

    مزید پڑھیے

    بیٹھے ہیں چین سے کہیں جانا تو ہے نہیں

    بیٹھے ہیں چین سے کہیں جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ٹھکانا تو ہے نہیں تم بھی ہو بیتے وقت کے مانند ہو بہو تم نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے کس لیے خائف ہو میری جان کر لو کہ تم نے عہد نبھانا تو ہے نہیں وہ جو ہمیں عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہو ہم نے بتانا تو ...

    مزید پڑھیے

    کیوں ترے ساتھ رہیں عمر بسر ہونے تک

    کیوں ترے ساتھ رہیں عمر بسر ہونے تک ہم نہ دیکھیں گے عمارت کو کھنڈر ہونے تک تم تو دروازہ کھلا دیکھ کے در آئے ہو تم نے دیکھا نہیں دیوار کو در ہونے تک چپ رہیں آہ بھریں چیخ اٹھیں یا مر جائیں کیا کریں بے خبرو تم کو خبر ہونے تک ہم پہ کر دھیان ارے چاند کو تکنے والے چاند کے پاس تو مہلت ہے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2