رحمان فارس کی غزل

    سکوت شام میں گونجی صدا اداسی کی

    سکوت شام میں گونجی صدا اداسی کی کہ ہے مزید اداسی دوا اداسی کی بہت شریر تھا میں اور ہنستا پھرتا تھا پھر اک فقیر نے دے دی دعا اداسی کی امور دل میں کسی تیسرے کا دخل نہیں یہاں فقط تری چلتی ہے یا اداسی کی چراغ دل کو ذرا احتیاط سے رکھنا کہ آج رات چلے گی ہوا اداسی کی وہ امتزاج تھا ...

    مزید پڑھیے

    وداع یار کا لمحہ ٹھہر گیا مجھ میں

    وداع یار کا لمحہ ٹھہر گیا مجھ میں میں خود تو زندہ رہا وقت مر گیا مجھ میں سکوت شام میں چیخیں سنائی دیتی ہیں تو جاتے جاتے عجب شور بھر گیا مجھ میں وہ پہلے صرف مری آنکھ میں سمایا تھا پھر ایک روز رگوں تک اتر گیا مجھ میں کچھ ایسے دھیان میں چہرہ ترا طلوع ہوا غروب شام کا منظر نکھر گیا ...

    مزید پڑھیے

    رات آ بیٹھی ہے پہلو میں ستارو تخلیہ

    رات آ بیٹھی ہے پہلو میں ستارو تخلیہ اب ہمیں درکار ہے خلوت سو یارو تخلیہ آنکھ وا ہے اور حسن یار ہے پیش نظر شش جہت کے باقی ماندہ سب نظارو تخلیہ دیکھنے والا تھا منظر جب کہا درویش نے کج کلاہو بادشاہو تاجدارو تخلیہ غم سے اب ہوگی براہ راست میری گفتگو دوستو تیمار دارو غم گسارو ...

    مزید پڑھیے

    میں کار آمد ہوں یا بے کار ہوں میں

    میں کار آمد ہوں یا بے کار ہوں میں مگر اے یار تیرا یار ہوں میں جو دیکھا ہے کسی کو مت بتانا علاقے بھر میں عزت دار ہوں میں خود اپنی ذات کے سرمائے میں بھی صفر فیصد کا حصے دار ہوں میں اور اب کیوں بین کرتے آ گئے ہوں کہا تھا نا بہت بیمار ہوں میں مری تو ساری دنیا بس تمہی ہو غلط کیا ہے جو ...

    مزید پڑھیے

    صدائیں دیتے ہوئے اور خاک اڑاتے ہوئے

    صدائیں دیتے ہوئے اور خاک اڑاتے ہوئے میں اپنے آپ سے گزرا ہوں تجھ تک آتے ہوئے پھر اس کے بعد زمانے نے مجھ کو روند دیا میں گر پڑا تھا کسی اور کو اٹھاتے ہوئے کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے پھر اس کے بعد عطا ہو گئی مجھے تاثیر میں رو پڑا تھا کسی کو ...

    مزید پڑھیے

    سر بسر یار کی مرضی پہ فدا ہو جانا

    سر بسر یار کی مرضی پہ فدا ہو جانا کیا غضب کام ہے راضی بہ رضا ہو جانا بند آنکھو وہ چلے آئیں تو وا ہو جانا اور یوں پھوٹ کے رونا کہ فنا ہو جانا عشق میں کام نہیں زور زبردستی کا جب بھی تم چاہو جدا ہونا جدا ہو جانا تیری جانب ہے بتدریج ترقی میری میرے ہونے کی ہے معراج ترا ہو جانا تیرے ...

    مزید پڑھیے

    نظر اٹھائیں تو کیا کیا فسانہ بنتا ہے

    نظر اٹھائیں تو کیا کیا فسانہ بنتا ہے سو پیش یار نگاہیں جھکانا بنتا ہے وہ لاکھ بے خبر و بے وفا سہی لیکن طلب کیا ہے گر اس نے تو جانا بنتا ہے رگوں تلک اتر آئی ہے ظلمت شب غم سو اب چراغ نہیں دل جلانا بنتا ہے پرائی آگ مرا گھر جلا رہی ہے سو اب خموش رہنا نہیں غل مچانا بنتا ہے قدم قدم پہ ...

    مزید پڑھیے

    دل کو درون خانہ ہی بہلاؤ گھر رہو

    دل کو درون خانہ ہی بہلاؤ گھر رہو تم کو قسم ہے بھیڑ میں مت جاؤ گھر رہو زندہ رہے تو یار بہت محفلیں بہت فی الحال میرے انجمن آراؤ! گھر رہو مانا کہ عید ملنا بھی دستور ہے مگر سینوں سے لگ کے موت نہ پھیلاؤ گھر رہو چوکھٹ نہ پار کرنا کہ باہر ہے قتل عام گلیوں میں چل رہی ہے اجل داؤ گھر ...

    مزید پڑھیے

    عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین

    عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین دل کو ہر روز عطا نعمت غم ہو آمین میرے کاسے کو ہے بس چار ہی سکوں کی طلب عشق ہو وقت ہو کاغذ ہو قلم ہو آمین حجرۂ ذات میں یا محفل یاراں میں رہوں فکر دنیا کی مجھے ہو بھی تو کم ہو آمین جب میں خاموش رہوں رونق محفل ٹھہروں اور جب بات کروں بات میں دم ہو ...

    مزید پڑھیے

    یہ جو مجھ پر نکھار ہے سائیں

    یہ جو مجھ پر نکھار ہے سائیں آپ ہی کی بہار ہے سائیں آپ چاہیں تو جان بھی لے لیں آپ کو اختیار ہے سائیں تم ملاتے ہو بچھڑے لوگوں کو ایک میرا بھی یار ہے سائیں کسی کھونٹی سے باندھ دیجے اسے دل بڑا بے مہار ہے سائیں عشق میں لغزشوں پہ کیجے معاف سائیں یہ پہلی بار ہے سائیں کل ملا کر ہے جو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2