رحمان فارس کی نظم

    جاگتی آنکھوں کا خواب

    تمہاری یاد کی خوشبو لگائی تھی میں نے تمام رات مرے جسم و جاں مہکتے رہے سرور ہجر کے موسم میں بھی نہ ماند پڑا حواس ضبط کے عالم میں بھی بہکتے رہے دیار خواب میں کچھ طائران‌ خوش آواز تمہارے آنے کی امید میں چہکتے رہے نواح دل میں کئی روشنی بھرے سائے وفور شوق سے گاتے رہے لہکتے ...

    مزید پڑھیے

    عورت مارچ: تصویر کا دوسرا رخ

    سنو، بنت حوا! میں آدم کا بیٹا ہوں آؤ تسلی سے نمٹائیں جھگڑا یہ حوا کی عزت کا حوا بنا کر دکھایا گیا ہے مجھے تم سے ناحق لڑایا گیا ہے میں آدم کا بیٹا ہوں اور جانتا ہوں کہ مرد اور عورت ہی فطرت کی گاڑی کے پہیے ہیں دو اور دونوں ہی لازم ہیں دونوں ضروری نہ ہو ایک بھی تو کہانی ادھوری مجھے یہ ...

    مزید پڑھیے

    دلیپ کمار

    ارے ہیرو! اداکاری نہ کر چل اٹھ کہ لاکھوں دل تری آنکھوں سے دھڑکن لینے آئے ہیں چلو مانا تری آنکھیں کچھ ایسی تھیں کہ اس بے کار سیارے پہ ان کا دیر تک رہنا نہ بنتا تھا مگر پیارے! تری آنکھوں کی رخصت روشنی کی ہار ہی تو ہے تو کیوں خاموش ہے کچھ کہہ کہ تیری بے کراں آواز میں تو لاکھوں صدیوں کی ...

    مزید پڑھیے

    زیادہ پاس مت آنا

    زیادہ پاس مت آنا میں وہ تہہ خانہ ہوں جس میں شکستہ خواہشوں کے ان گنت آسیب بستے ہیں جو آدھی شب تو روتے ہیں پھر آدھی رات ہنستے ہیں مری تاریکیوں میں گمشدہ صدیوں کے گرد آلود نا آسودہ خوابوں کے کئی عفریت بستے ہیں مری خوشیوں پہ روتے ہیں مرے اشکوں پہ ہنستے ہیں مرے ویران دل میں رینگتی ہیں ...

    مزید پڑھیے

    سیلفی

    ہجر کے بے صدا جزیرے پر کنج تنہائی میں کوئی لڑکی خال و خد پر لگا کے آس کا رنگ چشم و لب پر سجا کے دل کی امنگ آنکھوں آنکھوں میں مسکراتی ہے شام کی سرمئی اداسی میں اپنی تصویر خود بناتی ہے ادھ کھلے ہونٹ نیم وا آنکھیں بے نوا ہونٹ بے صدا آنکھیں ایسی خاموشی ایسی تنہائی خود تماشا ہے خود ...

    مزید پڑھیے

    شہر بانو کے لیے ایک نظم

    تمہیں جب دیکھتا ہوں تو مری آنکھوں پہ رنگوں کی پھواریں پڑنے لگتی ہیں تمہیں سنتا ہوں تو مجھ کو قدیمی مندروں سے گھنٹیوں اور مسجدوں سے ورد کی آواز آتی ہے تمہارا نام لیتا ہوں تو صدیوں قبل کے لاکھوں صحیفوں کے مقدس لفظ میرا ساتھ دیتے ہیں تمہیں چھو لوں تو دنیا بھر کے ریشم کا ملائم پن مری ...

    مزید پڑھیے

    لا تحزنو

    وبائے عام سے مرنے کا خوف اپنی جگہ کواڑ کھول کے دیکھو بہار آئی ہے گلوں سے بھرنے لگے ایشیا کے لالہ زار وہ دیکھو ہو گئے یورپ کے آسماں شفاف بہت چمکنے لگا ہے ہمارا سیارہ پرندے گانے لگے ہیں ہوائیں ہو گئیں صاف گھروں کے صحنوں میں کلکاریاں ہیں بچوں کی محبتوں کے دیے ہیں ہر اک شبستاں ...

    مزید پڑھیے

    بلو باربر

    ارے ہیرو! اداکاری نہ کر چل اٹھ کہ لاکھوں دل تری آنکھوں سے دھڑکن لینے آئے ہیں چلو مانا تری آنکھیں کچھ ایسی تھیں کہ اس بے کار سیارے پہ ان کا دیر تک رہنا نہ بنتا تھا مگر پیارے! ترپن سال تو کچھ بھی نہیں ہوتے تو کیوں خاموش ہے کچھ کہہ کہ تیری بے کراں آواز میں تو لاکھوں صدیوں کی صدائیں ...

    مزید پڑھیے