Rais Siddiqui

رئیس صدیقی

رئیس صدیقی کی غزل

    یہ زرد چہرہ یہ درد پیہم کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

    یہ زرد چہرہ یہ درد پیہم کوئی سنے گا تو کیا کہے گا ذرا سے دل میں ہزار ہا غم کوئی سنے گا تو کیا کہے گا نہ قہقہوں کے ہی سلسلے ہیں نہ دوستوں میں وہ رتجگے ہیں ہر اک سے ملنا کیا ہے کم کم کوئی سنے گا تو کیا کہے گا بچھڑنے والوں کا غم نہ کیجے خود اپنے اوپر ستم نہ کیجئے اداس چہرہ ہے آنکھ پر ...

    مزید پڑھیے

    کھونے کی بات اور نہ پانے کی بات ہے

    کھونے کی بات اور نہ پانے کی بات ہے بس زندگی کا ساتھ نبھانے کی بات ہے نفرت کی آندھیوں سے نہ حل ہوگا مسئلہ جو آگ لگ چکی ہے بجھانے کی بات ہے اس کا حقیقتوں سے نہیں کوئی واسطہ سچ بات اب تو صرف فسانے کی بات تم مسکرا بھی سکتے نہیں کیا مرے لیے یہ تو کسی کے کام نہ آنے کی بات ہے ہم نے خیال ...

    مزید پڑھیے

    دل کے زخموں کو ہرا کرتے ہیں

    دل کے زخموں کو ہرا کرتے ہیں کیوں تجھے یاد کیا کرتے ہیں ان اندھیروں کو حقارت سے نہ دیکھ یہ چراغوں کا بھلا کرتے ہیں ساری باتیں نہیں مانی جاتیں بچے تو ضد ہی کیا کرتے ہیں اتنا سوچا ہے ترے بارے میں اب ترے حق میں دعا کرتے ہیں پارسا دنیا میں کوئی بھی نہیں آدمی سارے خطا کرتے ہیں اب ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2