یہ زرد چہرہ یہ درد پیہم کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
یہ زرد چہرہ یہ درد پیہم کوئی سنے گا تو کیا کہے گا ذرا سے دل میں ہزار ہا غم کوئی سنے گا تو کیا کہے گا نہ قہقہوں کے ہی سلسلے ہیں نہ دوستوں میں وہ رتجگے ہیں ہر اک سے ملنا کیا ہے کم کم کوئی سنے گا تو کیا کہے گا بچھڑنے والوں کا غم نہ کیجے خود اپنے اوپر ستم نہ کیجئے اداس چہرہ ہے آنکھ پر ...