Rais Farogh

رئیس فروغ

نئی غزل کے اہم ترین پاکستانی شاعروں میں نمایاں

One of the most outstanding Pakistani poets of new ghazal.

رئیس فروغ کی غزل

    دھوپ میں ہم ہیں کبھی ہم چھاؤں میں

    دھوپ میں ہم ہیں کبھی ہم چھاؤں میں راستے الجھے ہوئے ہیں پاؤں میں بستیوں میں ہم بھی رہتے ہیں مگر جیسے آوارہ ہوا صحراؤں میں ہم نے اپنایا درختوں کا چلن خود کبھی بیٹھے نہ اپنی چھاؤں میں کس قدر نادان ہیں اہل جہاں ہم گنے جانے لگے داناؤں میں سامنے کچھ دیر لہراتے رہے پھر وہ ساحل بہہ ...

    مزید پڑھیے

    ہوس کا رنگ زیادہ نہیں تمنا میں

    ہوس کا رنگ زیادہ نہیں تمنا میں ابھی یہ موج ہے بیگانگی کے صحرا میں سمندروں میں ستاروں کی آگ پھیلی ہے مہک رہا ہے لہو لذت نظارہ میں ہوا نے ابر بہاراں سے بے وفائی کی خبر کرو کسی آرام گاہ تنہا میں دلوں کے بند دریچوں سے جھانک کر دیکھو کسی فساد کی پرچھائیاں ہیں دنیا میں فریب تھا جو ...

    مزید پڑھیے

    اوپر بادل نیچے پربت بیچ میں خواب غزالاں کا

    اوپر بادل نیچے پربت بیچ میں خواب غزالاں کا دیکھو میں نے حرف جما کے نگر بنایا جاناں کا پاگل پنچھی بعد میں چہکے پہلے میں نے دیکھا تھا اس جمپر کی شکنوں میں ہلکا سا رنگ بہاراں کا بستی یونہی بیچ میں آئی اصل میں جنگ تو مجھ سے تھی جب تک میرے باغ نہ ڈوبے زور نہ ٹوٹا طوفاں کا ہم املاک ...

    مزید پڑھیے

    ہمہ وقت جو مرے ساتھ ہیں یہ ابھرتے ڈوبتے سائے سے

    ہمہ وقت جو مرے ساتھ ہیں یہ ابھرتے ڈوبتے سائے سے کسی روشنی کے سراب ہیں کہ ملے ہر اپنے پرائے سے خم جادہ سے میں پیادہ پا کبھی دیکھ لیتا ہوں خواب سا کہیں دور جیسے دھواں اٹھا کسی بھولی بسری سرائے سے اٹھی موج درد تو یک بہ یک مرے آس پاس بکھر گئے مہ نیم شب کے ادھر ادھر جو لرز رہے تھے ...

    مزید پڑھیے

    ہاتھ ہمارے سب سے اونچے ہاتھوں ہی سے گلہ بھی ہے

    ہاتھ ہمارے سب سے اونچے ہاتھوں ہی سے گلہ بھی ہے گھر ایسے کو سونپ دیا جو آگ بھی ہے اور ہوا بھی ہے اپنی انا کا جال کسی دن پاگل پن میں توڑوں گا اپنی انا کے جال کو میں نے پاگل پن میں بنا بھی ہے دیئے کے جلنے اور بجھنے کا بھید سمجھ میں آئے تو کیا اسی ہوا سے جل بھی رہا تھا اسی ہوا سے بجھا ...

    مزید پڑھیے

    کسی کسی کی طرف دیکھتا تو میں بھی ہوں

    کسی کسی کی طرف دیکھتا تو میں بھی ہوں بہت برا نہیں اتنا برا تو میں بھی ہوں خرام عمر ترا کام پائمالی ہے مگر یہ دیکھ ترے زیر پا تو میں بھی ہوں بہت اداس ہو دیوار و در کے جلنے سے مجھے بھی ٹھیک سے دیکھو جلا تو میں بھی ہوں تلاش گم شدگاں میں نکل چلوں لیکن یہ سوچتا ہوں کہ کھویا ہوا تو میں ...

    مزید پڑھیے

    گلیوں میں آزار بہت ہیں گھر میں جی گھبراتا ہے

    گلیوں میں آزار بہت ہیں گھر میں جی گھبراتا ہے ہنگامے سے سناٹے تک اپنا حال تماشا ہے بوجھل آنکھیں کب تک آخر نیند کے وار بچائیں گی پھر وہی سب کچھ دیکھنا ہوگا صبح سے جو کچھ دیکھا ہے دھوپ مسافر چھاؤں مسافر آئے کوئی کوئی جائے گھر میں بیٹھا سوچ رہا ہوں آنگن ہے یا رستہ ہے آدھی عمر کے پس ...

    مزید پڑھیے

    میں تو ہر لمحہ بدلتے ہوئے موسم میں رہوں

    میں تو ہر لمحہ بدلتے ہوئے موسم میں رہوں کوئی تصویر نہیں جو ترے البم میں رہوں گھر جو آباد کیا ہے تو یہ سوچا میں نے تجھ کو جنت میں رکھوں آپ جہنم میں رہوں تو اگر ساتھ نہ جائے تو بہت دور کہیں دن کو سورج کے تلے رات کو شبنم میں رہوں جی میں آتا ہے کسی روز اکیلا پا کر میں تجھے قتل کروں ...

    مزید پڑھیے

    اونچی اونچی شہنائی ہے

    اونچی اونچی شہنائی ہے پاگل کو نیند آئی ہے ایک برہنہ پیڑ کے نیچے میں ہوں یا پروائی ہے میری ہنسی جنگل میں کسی نے دیر تلک دہرائی ہے روشنیوں کے جال سے باہر کوئی کرن لہرائی ہے خاموشی کی جھیل پہ شیاما کنکر لے کر آئی ہے دھیان کی ندیا بہتے بہتے ایک دفعہ تھرائی ہے کھیت پہ کس نے سبز ...

    مزید پڑھیے

    آنکھیں جن کو دیکھ نہ پائیں سپنوں میں بکھرا دینا

    آنکھیں جن کو دیکھ نہ پائیں سپنوں میں بکھرا دینا جتنے بھی ہیں روپ تمہارے جیتے جی دکھلا دینا رات اور دن کے بیچ کہیں پر جاگے سوئے رستوں میں میں تم سے اک بات کہوں گا تم بھی کچھ فرما دینا اب کی رت میں جب دھرتی کو برکھا کی مہکار ملے میرے بدن کی مٹی کو بھی رنگوں میں نہلا دینا دل دریا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 4