قمر عثمانی کی غزل

    الم کی بات سے آزار جاں سے کچھ نہیں ہوتا

    الم کی بات سے آزار جاں سے کچھ نہیں ہوتا وہ عالم ہے کہ احساس زیاں سے کچھ نہیں ہوتا وقار گلستاں کی پاسداری بات ہے ورنہ چمن کے نام پر حسن بیاں سے کچھ نہیں ہوتا عمل کی قوت تسخیر سے دنیا بدلتی ہے شکایت ہائے جور آسماں سے کچھ نہیں ہوتا یقیں محکم اگر ہو گردش دوراں بدل ڈالے گماں کتنا ہی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2