Qaisar Nizami

قیصر نظامی

قیصر نظامی کی غزل

    عالم امکاں میں دنیا کی ہوا تھی میں نہ تھا

    عالم امکاں میں دنیا کی ہوا تھی میں نہ تھا جلوہ آرا صرف ذات کبریا تھی میں نہ تھا کر دیا بیدار جس نے ساکنان عرش کو وہ کسی درد آشنا دل کی صدا تھی میں نہ تھا منتشر جس نے کیا تھا ان کی زلف ناز کو سچ اگر پوچھو تو وہ باد صبا تھی میں نہ تھا کھل گیا جو راز الفت آج اہل بزم پر یہ تمہاری مست ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2