عالم امکاں میں دنیا کی ہوا تھی میں نہ تھا
عالم امکاں میں دنیا کی ہوا تھی میں نہ تھا جلوہ آرا صرف ذات کبریا تھی میں نہ تھا کر دیا بیدار جس نے ساکنان عرش کو وہ کسی درد آشنا دل کی صدا تھی میں نہ تھا منتشر جس نے کیا تھا ان کی زلف ناز کو سچ اگر پوچھو تو وہ باد صبا تھی میں نہ تھا کھل گیا جو راز الفت آج اہل بزم پر یہ تمہاری مست ...