Mumtaz Gurmani

ممتاز گورمانی

ممتاز گورمانی کی غزل

    گل بدن خاک نشینوں سے پرے ہٹ جائیں

    گل بدن خاک نشینوں سے پرے ہٹ جائیں آسماں اجلی زمینوں سے پرے ہٹ جائیں میں بھی دیکھوں تو سہی بپھرے سمندر کا مزاج اب یہ ملاح سفینوں سے پرے ہٹ جائیں کرنے والا ہوں دلوں پر میں محبت کا نزول سارے بوجہل مدینوں سے پرے ہٹ جائیں میں خلاؤں کے سفر پر ہوں نکلنے والا چاند سورج مرے زینوں سے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2