Mohammad Faizaan Qadir

محمف فیضان قادر

محمف فیضان قادر کی غزل

    بھری محفل میں رسوا ہو گئے تھے

    بھری محفل میں رسوا ہو گئے تھے ہمی گھر گھر کا چرچا ہو گئے تھے یہ کس نے پیٹھ پر خنجر چلایا سبھی دشمن تو پسپا ہو گئے تھے کسی موج صبا کے منتظر تھے چمن کے پھول تنہا ہو گئے تھے وہ کس ہستی کے لب کی جنبشوں سے کبھی پتھر بھی گویا ہو گئے تھے عمارت جوں کی توں لگتی تھی لیکن در و دیوار مردہ ہو ...

    مزید پڑھیے

    کس جگہ جاتا ہے اور کون سے در جاتا ہے

    کس جگہ جاتا ہے اور کون سے در جاتا ہے تیرے در سے جو پلٹ آئے کدھر جاتا ہے منظر عام پہ آتا ہے تو ڈر جاتا ہے اشک میرا مرے اندر ہی بکھر جاتا ہے کیا ہوا چھوڑ کہ ہر بار اگر جاتا ہے دو گھڑی مجھ سے مگر بات تو کر جاتا ہے آج وہ زخم کی تاثیر سے تر جاتا ہے وہ جو کہتا تھا میاں زخم ہے بھر جاتا ...

    مزید پڑھیے

    دشت کی بد دعا نہ لو لوگو

    دشت کی بد دعا نہ لو لوگو پیڑ کہتا ہے کیا سنو لوگو زندگی اک حسین منظر ہے ہر گھڑی دیکھتے رہو لوگو میرے ہاتھوں نے چھو لیا ہے اسے میرے ہاتھوں کو چوم لو لوگو اب جو روتے ہو اپنی قسمت پر میں نہ کہتا تھا مت کرو لوگو میرے بچے کا کچھ قصور نہیں میرے بچے کو چھوڑ دو لوگو

    مزید پڑھیے