کس جگہ جاتا ہے اور کون سے در جاتا ہے

کس جگہ جاتا ہے اور کون سے در جاتا ہے
تیرے در سے جو پلٹ آئے کدھر جاتا ہے


منظر عام پہ آتا ہے تو ڈر جاتا ہے
اشک میرا مرے اندر ہی بکھر جاتا ہے


کیا ہوا چھوڑ کہ ہر بار اگر جاتا ہے
دو گھڑی مجھ سے مگر بات تو کر جاتا ہے


آج وہ زخم کی تاثیر سے تر جاتا ہے
وہ جو کہتا تھا میاں زخم ہے بھر جاتا ہے


کس کی یادوں کے دئے زخم مجھے چبھتے ہیں
کون ہے جو مری آنکھوں میں ٹھہر جاتا ہے


آدمی دل میں اتر جائے تو زندہ ہے مگر
آدمی دل سے اتر جائے تو مر جاتا ہے


کس کا خوں ہے کہ یہ مٹی بھی تڑپنے لگی ہے
نوک نیزہ پہ یہ کس مرد کا سر جاتا ہے